کسر صلیب — Page 68
YA اعتراضات ممکن طور پر انسانی ذہن میں آسکتے ہیں ان سب کو بھی ساتھ ہی جواب دیدیا۔اسی طرح استدلال کے سلسلہ میں پیدا ہونے والے جملہ اعتراضات کو بھی مدنظر رکھنا ہے۔حضرت مسیح پاک علیہ السلام کے طرز استدلال کی یہ خوبی ایسی ہے کہ اس کی مسائل اس وضاحت سے حل ہو جاتے ہیں کہ کسی قسم کا شک یا خلجان باقی نہیں رہتا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس بات کا بھی اہتمام فرمایا ہے کہ جو دلیل دی جائے اس کے ثبوت کو بھی بیان کر دیا جائے تاکہ وہ دلیل بغیر ثبوت کے نہ رہے۔اس التزام کی وجہ سے بعض اوقات ایک دلیل کئی اور ضمنی دلائل کو بھی اپنے ساتھ لے آتی ہے۔حضرت مسیح موعود کے علم کلام پر نظر کرنے والا ہر شخص اس قسم کی متعدد مثالیں پالیتا ہے۔اس مقالہ میں چند ایسی مثالیں دوسرے مقامات پر موجود ہیں۔ان میں سے ایک کائیں اس جگہ ذکر کر دیتا ہوں۔حضرت مسیح پاک علیہ السلام نے کفارہ کے رد میں ایک دلیل۔اور در حقیقت یہ ایک۔دلیل ہزار دلیلوں پر بھاری ہے۔یہ بیان فرمائی ہے کہ حضرت مسیح ناصری علیہ السلام صلیب پر پر گنه فوت نہیں ہوئے پھر اس بات کے متعدد ثبوت بیان فرمائے ہیں کہ وہ صلیب پر فوت نہیں ہوئے۔اس ضمن میں ایک ثبوت ان کا کشمیر کی طرف ہجرت کرنا ہے۔ہجرت کشمیر کے قرائن اور ثبوت پیش کئے ہیں اور پھر اہل کشمیر کا بنی اسرائیل ہونا متعدد دلائل سے ثابت کیا ہے۔ایک کا دلیل بنی اسرائیل اور کشمیری لوگوں کے ناموں کا اشتراک اور زبان کا ملنا ہے۔اس ضمن میں حضور نے یونہ آسف نبی کا نام پیش فرمایا ہے اور بتایا ہے کہ آسف کے معنے ہیں گرہ لوگوں کو تلاش کرنے والا۔الغرض حضور نے ایک دلیل کے بعد یکے بعد دیگر سے دوسری دلیلوں کو بیان فرمایا جو پہلی بنیاد کی حفاظت کرتی ہیں اور اس طرح ایک بات کو ہر لحاظ سے پایہ ثبوت تک پہنچا دیا ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے علم کلام کی یہ خوبی بہت ہی قابل قدر اور شاندار ہے۔یہ بیان کرنے کی شاید ضرورت نہیں کہ یہ لربط و تسلسل یہ کثرت دلائل اور یہ وضاحت صرف اس شخص کے کلام میں نظر آسکتی ہے جو اپنے عقائد پر علی وجہ البصیرت قائم ہوا القرض حضور پاک کے علم کلام کی ایک خوبی یہ ہے کہ آپ نے جس بات کو لیا اور جس دلیل کو بیان کیا اس کو کمال اور انتہا تک پہنچا دیا۔نوس خصوصیت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خدا داد علم کلام کا ایک نمایاں وصف یہ ہے کہ آپنے نہ صرف یہ کہ