کسر صلیب — Page 62
۶۲ " خدا تعالیٰ نے مجھے آسمانی نشان عطا فرمائے ہیں اور کوئی نہیں کہ ان میں میرا مقابلہ کر سکے اور دنیا میں کوئی عیسائی نہیں کہ جو آسمانی نشان میرے مقابل پر دیکھوار کے سکے ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے علم کلام کی بنیاد فلسفہ پر نہیں تھی بلکہ مشاہدہ اور نشان نمائی کے محکم اصول پر رکھی ہے جینی فلسفہ کو باطل کر دیا ہے۔عام تکلمین اور فلسفی ظاہر سے باطن پر استدلال کرتے ہیں لیکن آپ نے باطن سے ظاہر پیر استدلال فرمایا۔ظاہر ہے کہ اس ذریعہ سے ایک یقین کامل اور " ہے " کا یقینی مقام حاصل ہوتا ہے جس کی مقابل پر فلسفہ کی سیب دلیلیں بے کار ہیں۔اس سلسلہ میں خُدا کے وجود کی مشال بیان کی جاسکتی ہے۔فلسفہ اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ خُدا کا وجود ہونا چاہیے لیکن انبیاء کا قطعی کلام ، یقینی دلائل سے اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ خُدا واقعی موجود ہے۔انبیاء کا وجود خدا کے وجود کا ثبوت ہوتا ہے اور ان کا کلام اس حقیقت کا ترجمان ہوتا ہے مسیح پاک علیہ السلام فرماتے ہیں :- د ہم اپنی ذات اور وجود کو پیش کر کے دنیا کو خدا تعالیٰ کا وجود منوانا چاہتے ہیں ۲ الغرض آپ کے علم کلام کی ایک نمایاں خوبی یہ ہے کہ آپ نے عقلی نقلی دلائل اور اعتراضات کے جوابات سے آگے بڑھ کہ سنت انبیاء کے مطابق ذاتی مشاہدہ اور نشان نمائی پر علم کلام کی بنیاد رکھی ہے۔پانچویں خصوصیت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے علم کلام کی ایک خوبی یہ ہے کہ یہ ایک جامع علم کلام ہے۔گذشتہ باب میں ہم دیکھ آئے ہیں کہ عام طور پر علم کلام میں تین باتیں شامل کی جاتی ہیں یعنی عقائد کے اثبات کے لئے عقلی و نقلی دلائل دنیا اور اعتراضات کے جوابات دینا حضرت مسیح پاک علیہ السلام کے علم کلام میں یہ ساری باتیں درجہ کمال میں پائی جاتی ہیں۔آپ نے اسلام کے عقائد پر عقلی اور نقلی دلائل بیان فرمائے بلکہ اسکی بھی بڑھ کر یہ کہ آپ نے اسلامی احکام کی حکمت اور فلاسفی پہ بھی روشنی ڈالی اعتراضات کے جوابات کے سلسلہ میں آپ کے کار ہائے نمایاں کسی تعریف و توصیف کے محتاج نہیں۔آپ نے جملہ مذاہب کی طرف سے ہونے والے اعتراضات کے له تریاق القلوب منا وحانی خزائن جلدها له : ملفوظات جلد اول ص ۳۲ :