کسر صلیب — Page 61
41 کرنے کی وجہ سے وہ اسلام پر کوئی بھی اعتراض کرنے کے قابل نہ ہو سکتے، الٹا اپنے مذہب کے دفاع پہ مجبور ہو جاتے الغرض حضرت مسیح پاک علیہ السلام کے علم کلام کی ایک خوبی آپ کے محکم اصول ہیں اگر حق بین نظر کے ساتھ ان اصولوں کو دیکھا جائے تو ہر انصاف پسند انسان حضرت مسیح پاک علیہ السلام کے ان الفاظ سے اتفاق کرے گا کہ : ”ہمار سے اصول عیسائیوں پر ایسے پتھر ہیں کہ وہ ان کا ہرگزہ جواب نہیں ہے سکتے لے کہ وہ ان چوتھی خصوصیت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے علم کلام کی چوتھی خصوصیت یہ ہے کہ آپ نے عام مشکلمین کہ نے عام کی طرح صرف عقلی و نقلی دلائل دینے اور اعتراضات کے اوپر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ اس ابتدائی درجہ سے بہت آگے بڑھتے ہوئے اپنے علم کلام کی بنیاد مشاہدہ اور نشان نمائی پر رکھی ہے۔یہ خوبی آپ کے علم کلام کی وقعت اور اہمیت کو بہت بڑھا دیتی ہے۔حضرت مسیح پاک علیہ السلام نے عقلی اور نقلی دلائل کے بیان میں بھی کمال کے درجہ کو حاصل کیا پھر اعتراضات کے جوابات ایسے عمدگی سے دیئے کہ دشمن کو اپنی شکست کے اعتراف کئے بغیر چارہ نہ رہا۔صرف یہی نہیں بلکہ دشمن نے جس جگہ اور جس مقام کو کمزور سمجھ کر اپنے اعتراض کا نشانہ بنایا۔حضرت مسیح پاک علیہ السلام نے اسی جگہ سے حکمت کی ایک کان کھود کر دکھا دی۔حضرت مسیح پاک علیہ السلام نے یونانی فلسفہ اور بدیہیات کے مقابلہ میں مشاہدہ اور نشان نمائی کو پیش فرمایا۔ظاہر ہے کہ اس طرز استدلال کا مقابلہ نہ کوئی منکم کرسکتا ہے اور نہ کر سکا ہے۔دلیل کی افادیت سے انکار نہیں بلکہ عقلی اور نقلی دلائل کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پوری قوت اور تحدی کے ساتھ پیش فرمایا ہے لیکن آپ کے علم کلام کا کمال یہ ہے کہ آپ نے صرف عقل اور نقل پر استدلال کا انحصار نہیں رکھا بلکہ آپ نے دلیل سے بڑھ کو عاجز کرنے والی چیز یعنی مشاہدہ اور نشان نمائی کو پیش فرمایا۔دلیل زیادہ سے زیادہ ایک کاری سہم تیار ہے لیکن نشان نمائی اور مشاہدہ آسمانی بجلی ہے جس کا مقابلہ کوئی زمینی ہتھیا۔نہیں کر سکتا۔آپ فرماتے ہیں :- لفوظات جلد نہم من :