کسر صلیب — Page 63
دندان شکن جوابات عطا فرمائے۔پھر اس علم کلام کی جامعیت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ آپ نے ہندوستان میں موجود سب مذاہب سے بیک وقت مقابلہ فرمایا۔آپ نے سکھ مذہب، سناتن دھرم ، آریہ مذہب ، دہریت، بہائیت اور سب سے بڑھ کر عیسائیت کا مقابلہ کیا اور ان کے باطل عقائد پر ایسی کڑی تنقید کی کہ ان سب مذاہب کا کھوکھلا پن ایک واضح حقیقت بن گیا۔یہ بیرونی میدان تھا۔اندرونی طور پر آپ نے مسلمانوں کے مختلف فرقوں اور مکاتب فکر کے لوگوں کے لئے بھی راہ مستقیم کی نشاندہی فرمائی۔الغرض آپ کے علم کلام کو ایک ایسی وسعت ، جامعیت اور ہمہ گیری عطا ہوئی ہے کہ اس کی مثال کسی اور شخص کے علم کلام میں نظر نہیں آتی۔وذلك فضل الله يؤتيه من يشاء۔چھٹی خصوصیت حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کے علم کلام کی ایک بہت ہی نمایاں خوبی آپ کا یقین کامل اور تحدی ہے۔آپ کی تحریرات پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ آپ نے باطل مذاہب اور خاص طور پر عیسائیت کے خلاف جو دلائل بیان فرمائے ہیں وہ کسی منطقی استدلال اور فکر کا نتیجہ ہی نہیں ہیں بلکہ اس میں ایسی قطعیت اور یقینی کیفیت نظر آتی ہے کہ جو حق وصداقت کے بغیر قطعا نا مکن ہے۔یہی وجہ ہے کہ آپ کے علم کلام میں ایک تحری پائی جاتی ہے ، ایک یقین کامل ہے۔وثوق اور ایمان ہے اور ایسا غیر متز لندن ایقان ہے کہ خود اس شخص کے پاؤں میں لغزش پیدا ہونے کہ کا کیا سوال ، ان دلائل کو پڑھ کہ متزلزل قدم تھم جاتے ہیں اور شکوک شبہات میں مبتلا ہونے والے کمر در ایمان لوگوں کو یقین اور معرفت کی دولت نصیب ہوتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات اور زبر دست استدلال کو پڑھ کر وجد کی سی کیفیت طاری ہو جاتی ہے اور صاف معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ انسانی کلام نہیں بلکہ خدائی القاء کی صدائے بازگشت ہے جو اس مومن کامل کے ذریعہ سنائی دے رہی ہے خدا شاہد ہے کہ اس بات میں ذرہ بھر بھی مبالغہ یا زیا دتی نہیں ہے کہ حضرت سیح پاک علیہ السلام کی بعض تحریرات پڑھ کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ گویا خدا بول رہا ہے ! الغرض حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کلام میں جلال، تحدی اور شوکت کا پایا جانا ایک بہت بڑی خوبی ہے۔اس ضمن میں متعدد حوالے پیش کئے جاسکتے ہیں۔ہمیں اپنے مقالہ کی مناسبت سے