کسر صلیب

by Other Authors

Page 58 of 443

کسر صلیب — Page 58

کر سے تا کہ یہ ثابت ہو کہ بیان کردہ دعوی متبعین کا بنایا ہوا نہیں ہے بلکہ خود ایا ہوا نہیں بانی مذہب کا پیش کردہ ہے کیا لے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا عیسائیت کے مقابلہ پر پیش کردہ یہ اصول ایسا فیصلہ کن اصول ہے کہ اس کی سب باطل مذاہب کی قلعی کھل جاتی ہے اور کسی شخص کے لئے یہ موقع باتی نہیں رہتا کہ وہ بلا دلیل اپنے مذہری کے حق میں کوئی بلند بانگ دعوی کر سکے۔یاد رہے کہ یہ اصول ایسا نہیں ہے کہ اس کو ناقابل قبول ، غیر ضروری یا غلط قرار دیا جا سکے۔ہر شخص ہر سلیم الفطرت اور ذی شعور انسان اس بات کو سمجھ سکتا ہے کہ ہر مذہب کے بنیادی اصول اس مذہب کی کتاب میں موجود ہونے چاہئیں اور پھر کتاب اپنے ثبوت کے لئے غیروں کی محتاج نہیں ہونی چاہیئے۔بس یہ اصول ایک صحیح اصول ہے جو حکم بنیادوں پر قائم ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا پیش کردہ یہ اصول اتنا کارگر اور ٹھیک نشانہ پریگا کہ اسی ایک اصول نے عیسائیت کے تمام عقائد کی بنیادیں متزلزل کر دیں۔حضور نے یہ اصول جنگ مقدس مباحثہ میں پیش فرمایا تھا۔اس مباحثہ کی روئیداد پڑھنے والا ہر انسان اندازہ کر سکتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تو اپنے اس اصول کی پوری پوری پابندی کرتے ہوئے تمام دعاوی اور دلائل قرآن مجید سے پیش فرمائے ہیں لیکن مد مقابل عیسائی پادری کو نہ اس اصول پر اعتراض کرنے کی جرات ہو سکی اور نہ اس کی پابندی کرنے کی توفیق مل سکی حضرت مسیح پاک نے مباحثہ میں مد مقابل پادری صاحب کو بار بار اس اصول کی پابندی کی طرف توجہ دلائی لیکن وہ ہمیشہ اس اصول سے دامن بچاتے رہے۔پادری صاحب کا یہ گریز اس محکم میں کی عظیم الشان تاثیرات پر زندہ گواہ ہے۔اس محکم اصول کا جو فوری اللہ ہوا اسکے بارہ میں قمر الا نبیاء حضرت مرزا بشیر احمد صاحب اثر اپنی کتاب میں فرماتے ہیں: " جب آپ نے یہ اصول امرتسر والے مناظرہ میں عیسائی صاحبان کے سامنے پیش کیا تو ان کے اوسان خطا ہو گئے۔تو حق یہ ہے کہ یہ اصول باطل مذاہب کے حق میں اور ان کے اندھے متبعین کے بے دلیل دعاوی کے حق میں آسمانی صاعقہ سے کم نہیں۔اس اصول کے بارے میں حضرت مصلح الموجود تحریر فڑاتے ہیں :- :- سلسلہ احمدیہ ص ۳۱ : : سلسلہ احمدیہ صلا