کسر صلیب

by Other Authors

Page 57 of 443

کسر صلیب — Page 57

۵۷ پھر اسی ضمن میں آپ نے یہ بھی فرمایا کہ جو عقلی دلیل دی جائے وہ بھی الہامی کتاب سے ہو۔فرمایا :- " جس کتاب کی نسبت یہ دعوی کیا جاتا ہے کہ فی حد ذاتہ کامل ہے اور تمام مراتب ثبوت کے وہ آپ پیش کرتی ہے تو پھر اس کتاب کا یہ فرض ہو گا کہ اپنے اثبات دعادی کے لئے دلائل معقولی بھی آپ ہی پیش کر رہے نہ یہ کہ کتاب پیش کرنے سے بالکل عاجزہ اور ساکت ہو اور کوئی دوسرا شخص کھڑا ہو کر کہ اس کی حمایت کمر سے " لے حضرت المصلح الموعودہ اس اصول کو ان الفاظ میں واضح فرماتے ہیں :- ضروری ہے کہ مذہبی تحقیق کے وقت یہ امر مد نظر رکھا جائے کہ آسمانی مذاہب کے مدعی جو دعویٰ اپنے مذاہب کی طرف سے پیش کریں وہ بھی ان کی آسمانی کتب سے ہو اور جو دلائل دیں وہ بھی انہی کی کتاب ہے ہوں " سے علم کلام کے دو زریں اصول کے زیر عنوان حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ نے تحریر فرمایا ہے :- " آپ نے اسلام کے اندرونی اختلافات اور اسلام اور دوسرے مذاہب کے باہمی اختلافات کے تصفیہ کے متعلق دو ایسے زریں اصول پیش کئے جنہوں نے مذہبی علم کلام میں ایک انقلاب پیدا کر دیا۔پہلا اصول آپ نے اسلام کے اندرونی اختلافات کے متعلق یہ پیش کیا کہ اسلام میں اندرونی فیصلوں کی اصل کسوٹی قرآن شریف ہے نہ کہ حدیث یا بعد کے ائمہ کے اقوال وغیرہ۔اس اصول نے اس گند سے علم کلام کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ کر دیا جو ایک عرصہ سے اسلامی مباحثات کو مکدر کر رہا تھا۔۔۔۔۔یہ ایک نہایت مجیب نکتہ تھا جس نے اسلامی علم کلام کی صورت کو بالکل بدل دیا۔ینی کو دوسرا زریں اصول جو آپ نے بین المذاہب اختلافات کے لئے پیش کیا وہ یہ تھا کہ ہر مذہب کا یہ فرض ہے کہ جہاں تک کم از کم اصول مذہب کا تعلق ہے وہ اپنے دعوئی اور دلیل ہر دو کو اپنی مقدس کتا ہے نکال کر پیش ١٣٣ ه: جنگ مقدس و روحانی خزائن جلد ۶ : ے : - دعوة الامير ص :