کسر صلیب

by Other Authors

Page 59 of 443

کسر صلیب — Page 59

۵۹ یہ اصل ایسا زبردست ہے کہ دوسرے ادیان اس کا ہرگنہ انکار نہیں کر سکتے تھے کیونکہ اگر وہ کہتے کہ نہیں ہم ایسا نہیں کر سکتے تو اس کی یہ معنے ہوتے کہ جو مذہب بیان کرتے ہیں وہ مذہب وہ نہیں ہے جو ان کی آسمانی کتب میں بیان ہوا ہے۔کیونکہ اگر وہی مذہب ہے تو پھر کیوں وہ اپنی آسمانی کتاب ہے اس کا دعوی بیان نہیں کر سکتے یا اگر دعوی بیان کر سکتے ہیں تو کیوں ان کی آسمانی کتاب دلیل سے خالی ہے۔غرض غیر مذاہب کے لوگ اس اصل کو نہ رو کر سکتے تھے کیونکہ ان کے رو کرنے کے یعنی تھے کہ ان کے مذہب بالکل ناقص اور رہی ہیں اور نہ قبول کر سکتے تھے کیونکہ۔۔۔۔۔۔۔جب اس اصل کے ماتحت دوسرے مذاہب کا جائزہ لیا گیا تومعلوم ہوا ، قریباً نوے فیصدی ان کے دعوے ایسے تھے جو ان کی الہامی کتب میں نہیں پائے جاتے تھے اور جس قدر عو سے مذہبی کتب سے نکلتے تھے ان میں قریبا سو فی صدی ہی دلائل کے بغیر بیان کئے گئے تھے یا نے پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے علم کلام کی ایک نمایاں خوبی آپ کے وہ اصول ہیں جو آپ نے مقرر فرمائے اور جن میں سے ایک محکم اصول کی مثال اس جگہ بیان کی گئی ہے۔اس اصول کے دور رس نتائج کے بارہ میں حضرت المصلح الموعود فرماتے ہیں :- آپ دیعنی حضرت مسیح پاک - ناقل نے یہ ثابت کیا کہ قرآن کریم تمام اصول اسلام کو خود پیش کرتا ہے اور ان کی سچائی کے دلائل بھی دیتا ہے اور اس کے ثبوت میں آپ نے سینکڑوں مسائل کے متعلق قرآن کریم کا دعوئی اور اس کے دلائل پیش کر کے اپنی بات کو روز روشن کی طرح ثابت کر دیا اور دشمنان اسلام آپ کے مقابلے سے بالکل عاجز آگئے اور وہ اس حربے سے اس قدر گھبرا گئے ہیں کہ آج تگ ان کو کوئی میلہ نہیں مل سکا جس سے اسکی زد سے بچ سکیں اور نہ آئندہ مل سکتا ہے۔یہ علم کلام ایسا مکمل اور اعلیٰ ہے کہ نہ اس کا انکار کیا جا سکتا ہے اور نہ اسکی موجودگی میں جھوٹ کی تائید کی جاسکتی ہے پس جوں جوں اس حربے کو استعمال کیا جائے گا ادیان باطلہ کے نمائندہ ہے مذہبی مباحثات سے جی چرائیں گے اور ان کے پیروں پر اپنے مذہب کی کمزوری کھلتی جائے گی اور لیظهره علی الدین : - دعوة الامير ص ۱۲ :