کسر صلیب

by Other Authors

Page 56 of 443

کسر صلیب — Page 56

۵۶ کرے کیونکہ یہ بات ایک مکمل ضابطہ شریعیت کی شان سے بعید ہے کہ وہ مذہبی عقائد کے بارہ میں کوئی واضح بیان نہ دے یا اگر بیان کر سے تو اس کی دلائل کا ذکر نہ کر سے۔پس آپ نے یہ اصول مقرر فرمایا کہ کسی بھی مذہب اور اس کی کتاب کی صداقت معلوم کرنے کا یہ اصول ہے کہ دعوی اور دلیل الہامی کتاب سے پیش کیا جائے۔مباحثہ جنگ مقدس کے موقعہ پر حضور اس اصول کو ان الفاظ میں بیان فرماتے ہیں :- اس مقابلہ اور موازنہ میں کسی فریق کا ہرگزہ یہ اختیار نہ ہوگا کہ اپنی کتاب سے باہر جاوے یا اپنی طرف سے کوئی بات منہ پر لاد سے بلکہ لازم اور ضروری ہوگا کہ جو دعوی کر یں وہ دعوئی اس الہامی کتاب کے حوالہ سے کیا جاؤ سے جو الہامی قرار دی گئی ہے اور جو دلیل پیش کریں وہ دلیل بھی اسی کتاب کے حوالہ سے ہو کیونکہ یہ بات بالکل سچی اور کامل کتاب کی شان سے بعید ہے کہ اس کی وکالت پنے تمام ساخت پردات سے دوسرا کرے وہ اپنے تمام ساختہ پر داختہ سے کوئی دوسرا شخص کر سے اور وہ کتاب بکلی خاموش اور ساکت ہے پھر ایک موقع پر یہ وضاحت بھی فرمائی کہ :- فریقین پر لازم و واجب ہوگا کہ اپنی اپنی الہامی کتاب کے حوالہ سے سوالی و جواب تحریر کریں پھر ساتھ ہی اس کے یہ بھی لکھا گیا تھا کہ ہر ایک دلیل یعنی دلیل عقلی اور دعوی جس کی تائید میں وہ دلیل پیش کی جائے اپنی اپنی کتاب کے حوالہ اور بیان سے دیا جائے تے آپ نے اس اصول کو اپنی کتاب جنگ مقدس میں بار بار پیش فرمایا ہے۔ایک موقع پہ فرماتے ہیں :- اللہ تعالٰی کی سچی کتاب کی یہ ضروری علامت اور شرط ہے کہ وہ دعوی بھی آپ کر سے اور اس دعویٰ کی دلیل بھی آپ بیان فرماد سے تا کہ ہر ایک پڑھنے والا اس کا ، دلائل شافیہ پاکہ اس کے دعادی کو بخوبی سمجھ لیو سے اور دعوئے بلا دلیل نہ رہے کیونکہ یہ شہر ایک متکلم کا ایک نقص سمجھا جاتا ہے کہ دعادی کرتا چلا جائے اور ان پر کوئی دلیل نہ سکھے " سے ه: جنگ مقدس حت (جلد ۶ ) به ايضاً من :- ايضاً ص٣٣ -- :