کسر صلیب

by Other Authors

Page 55 of 443

کسر صلیب — Page 55

۵۵ اى بنیاد بنایا۔سنت، حدیث اور اقوال بزرگان کا بھی درجہ بدرجہ لحاظ رکھا لیکن اصل اور حقیقی بنیاد قرآن شریف ہی تھا۔آپ کا یہ اصول نہ صرف مسلمانوں کے اندرونی معاملات کے حل کے لئے قطعی اور یقینی بنیاد ہے بلکہ غیر مسلموں کے مقابل پر بھی حضور نے قرآن مجید ہی کی مدد سے دلائل پیش فرمائے کیونکہ قرآن مجید میں پیش کردہ دلائل اور دعادی اپنے ساتھ عقلی اور نقلی شواہد بھی رکھتے ہیں۔پس میرے نزدیک آپ کے خداداد علم کلام کی دوسری خوبی یہ ہے کہ آپ نے قرآن مجید کو اپنے علم کلام کی بنیاد قرار دیا ہے۔نیسری خصوصیت آپ کے علم کلام کی تیسری اور ایک بہت ہی نمایاں خوبی یہ ہے کہ آپ نے علم کلام اور مذہبی مباحثات کے لئے کچھ ایسے اصول مقرر فرمائے جنہوں نے مذہبی مباحثات کا نقشہ بدل کر رکھ دیا۔یہ اصول ایسے محکم اور مضبوط ہیں کہ دشمن ان کا کسی صورت میں مقابلہ نہیں کر سکتا۔آپ فرماتے ہیں :- "ہمارے اصول عیسائیوں پر ایسے پتھر ہیں کہ وہ ان کا ہرگز جواب نہیں دے سکتے ہے اصولوں کا مقررکہ نا بہت ضروری امر تھاکیونکہ حضور علیہ السلام کے زمانہ سے قبل مباحثات کی یہ صورت ہوتی تھی کہ ہر مولوی اپنے اپنے زور بیان کا مظاہرہ کہتا تھا۔حق کو پانا مقصد نہ ہوتا تھا بلکہ لذت گوش مطلوب تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس غلط طریق کی صلاح فرماتے ہوئے علم کلام کے چند اصول مقرر فرمائے تا بحث و مباحثہ کا کوئی معین اور مفید نتیجہ نکل سکے۔میں اس ضمن میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس لیے شمالی اصول کا ذکر قدرے تفصیل سے کرنا چاہتا ہوں جو حضور نے ۱۸۹۳ ء میں ڈپٹی آتھم عیسائی کے ساتھ مباحثہ کے دوران اپنی کتاب جنگ مقدس میں پیش فرمایا۔آپ کے اس اصول کو اگر علم کلام کا سنہری اصول قرار دیا جائے تو ہر گز بے جا نہ ہوگا۔اس مباحثہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ اصول بیان فرمایا کہ ہر مباحثہ کو نیو الے پر لازم ہو گا کہ وہ مذہبی عقائد کے بارہ میں جو بھی اصولی دعوی پیش کر سے اس دعوی کو اپنے مذہب کی مسلمہ الہامی کتاب سے ثابت کرے اور پھر اس دعوہ کے دلائل بھی اسی کتاب سے بیان : ملفوظات جلد نهم من :