کسر صلیب — Page 54
۵۴ ہم خدا تعالی کے بلائے بولتے ہیں اور وہ کہتے ہیں جو فرشتے آسمان پر کہتے ہیں۔افتراء کرنا تو ہمیں آتا نہیں اور نہ ہی افتراء خدا کو پیارا ہے؟ لے ان دونوں حوالوں سے ظاہر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو کچھ تحریر فرمایا کسی دنیا وی مدرس یا دنیاوی مکتب سے کسب فیض کا نتیجہ نہ تھا بلکہ آپ کا حقیقی معلم اور مرتی خدائے حمن تھا جنسی اس عاشق رحمن کو اپنی جنا سے علوم ومعارف کے ایسے ایسے نکات اور دقائق سمجھائے کو دنیا کا کوئی منکم یا بڑے سے بڑا عالم اسکی گرد راہ کو بھی نہ پاسکا۔پس میرے نزدیک آپ کے علم کلام کا ایسے منفرد اعزاز یہ ہے کہ ہ علم کلام خدا داد ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس آسمانی اور مامورانہ علم کلام کی ضیاء پاشیوں کے مقابل پہ باطل کی نحوستیں ایک لحظہ کے لئے بھی نہیں ٹھہر سکتیں۔دوسری خصوصیت سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے علم کلام کی دوسری خصوصیت یہ ہے کہ آپ کے کی پیش کردہ اس علم کلام کی بنیاد قرآن مجید پر ہے۔قرآن مجید خدائے بزرگ وبرتر کا ایسا قطعی اور یقینی کلام ہے جو علوم و معارف کا سرچشمہ ہے۔اس کی بندشان کے بارہ میں خدائے رحمن نے فرمایا ہے :- " وان من شيئ الاعندنا خزائنه وما تنزل الا بقدر معلوم کے حضرت مسیح پاک علیہ السلام نے اپنے سب اقوال اور سب دلائل کی بنیاد اس کتاب حکیم کو بنایا۔آپ نے جو کچھ تحریر فرمایا اس تعامل کتاب کی روشنی میں تحریر فرمایا۔آپ نے اسی کتاب کو اپنی زندگی کا دستور العمل اور اپنے بیان کا اصل الاصول قرار دیا۔یہی وجہ ہے کہ آپ کی تحریر میں قرآنی بیان کی ایک جھلک اور اس آفتاب ہدایت کے نور کا پر تو نظر آتا ہے۔آپ کسی محبت سے فرماتے ہیں۔دل میں یہی ہے ہر دم تیرا صحیفہ چوموں قرآن کے گرد گھوموں کعبہ مرا یہی ہے الغرض آپ کے علم کلام کا دوسرا نمایاں وصف یہ ہے کہ آپ نے قرآن مجید کوعلم کلام کی :- " سه : ملفوظات جلد پنجم مه به سله