کسر صلیب — Page 51
۵۱ محسوسہ بد بہتہ کی طرح یہ ثابت کیا جائے کہ حضرت علی علیہ الہ فوت نہیں ہوئے اور نہ جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر گئے ہیں بلکہ اپنی طبعی موت سے مر گئے یا اے اس کے بارہ میں آپ فرماتے ہیں :- یہ تیسری صورت ایسی ہے کہ ایک متعصب عیسائی بھی اقرارہ کر سکتا ہے کہ اگر یہ بات بیائیہ ثبوت پہنچ جائے کہ حضرت مسیح صلیب پر قوت نہیں ہوئے اور نہ آسمان پر گئے تو پھر عیسائی مذہب باطل ہے اور کفارہ اور تثلیث سب باطل۔اور پھر اس کے ساتھ جب آسمانی نشان بھی اسلام کی تائید میں دکھلائے جائیں تو گویا اسلام میں داخل ہونے کے لئے تمام زمین کے عیسائیوں، پہ رحمت کا دروازہ کھول دیا جائے گا " سے گویا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نزدیک عیسائیت پر غلبہ پانے کی سب سے بہتر اور کارگر صورت یہی ہے کہ دلائل اور نشان نمائی کے میدان میں دشمن کو مغلوب کیا جائے حقیقت بھی یہی ہے کہ اسی صورت میں کسی مذہب پر غلبہ پایا جا سکتا ہے کہ دلائل کے میدان میں اس کا باطل ہونا اور نشانات کے میدان میں اس کا مردہ ہونا ثابت کر دیا جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے یہی منصب اور مقام دیگر دنیا میں بھیجا۔چنانچہ آپ کے علم کلام کی شان بھی یہی تھی کہ آپ نے عقلی اور نقلی دلائل کے علاوہ نشان نمائی کے میدان میں عیسائیت کو عاجزا اور لاچار بنا دیا۔آپ اپنے علم کلام کی وضاحت کرتے ہوئے بڑی سحری سے فرماتے ہیں :- یہی تیسری صورت ہے جس کی ساتھ میں بھیجا گیا ہوں۔خدا تعالیٰ نے ایک طرف تو مجھے آسمانی نشان عطا فرمائے ہیں اور کوئی نہیں کہ ان میں میرا مقابلہ کرسکے اور دنیا میں کوئی عیسائی نہیں کہ جو آسمانی نشان میرے مقابل پر دکھلا سکے اور دوسرے خدا کے فضل اور کریم اور رحم نے میرے پر ثابت کر دیا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام ت صلیب پر فوت ہوئے نہ آسمان پر چڑھے بلکہ مصیبت سے نجات پا کہ کشمیر کے ملک میں آئے اور اس جگہ وفات پائی۔یہ باتیں صرف قصہ کہانیوں کے رنگ میں نہیں تریاق القلوب من (جلد ۱) ه تریاق القلوب من (جلد ۱۵)