کسر صلیب — Page 49
۴۹ تھے۔اور نہ کبھی حضور نے اس قسم کا کوئی دعوئی فرمایا ہے۔سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالٰی نے اس زمانہ میں اصلاح مفاسد اور غلبہ اسلام کے لئے مامور اور رسول بنا کر بھیجا ہے۔پس آپ کا مقام ایک اصطلاحی متشکلم سے بالکل مختلف اور بہت بالا ہے۔اگر حضور کے پیش کردہ علم کلام کی حقیقت پر نظر رکھی جائے تو شاید یہ کہنا ہی غلط ہو کہ آپ نے بھی اصطلاحی علم کلام کے میدان میں کچھ کام کیا ہے۔وجہ یہ ہے کہ آپ کا پیش کر دہ مامورانہ علم کلام ریکی بلند خصوصیات کے بارہ میں ہم آئندہ صفحات میں کسی قدر تفصیلی ذکر کریں گے ، اپنی کیفیت اور ہم شان کے اعتبار سے توانا اور بے مثال ہے۔حق تو یہ ہے کہ آپ نے ایک ایسے علم کلام کی بنیاد قائم فرمائی ہے جو مامورانہ علم کلام ہے اور اپنی مثال آپ ہے۔انس مامورانہ علم کلام اور مطلا می علم کلام کو ایک معیار پہ لا کہ ان میں باہم مقابلہ کرنا میر ے نہ دیک درست نہیں ہے۔سیدناحضرت مسیح میخود علیہ السلام کے نامورانہ اور خداداد علم کلام میں نہیں وہ جلائی شان نظر آتی ہے جس کی صرف ایک جھلک یا صرف ایک پہلو اصطلاحی علم کلام میں پایا جاتا ہے۔یوں سمجھنا چاہیئے کہ اگر اصطلاحی متکلمین علم کلام کے میدان میں پہلی سیڑھی پر تھے تو مامور زمانہ حضرت مسیح پاک علیہ السلام نے اس علم کلام میں اتنی اصلاح اور رفعت پیدا کی ہے کہ علم کلام کو ارتقاء کی انتہائی ر فقتوں سے ہمکنار کر دیا ہے۔کاش! میرے پاس وہ الفاظ ہوتے جن سے میں اس خدا داد علیم کلام کی توصیف کا حق ادا کر سکتا ہے ليت الكواكب تدنو لى فالظمها عقود مدرج نما ارضى لكم كلمى اس مقالہ میں حضور کے پیش فرمودہ حمائل کو علم کلام ہی کا نام دیا جائے گا۔لیکن ہر موقع پر یہ وضاحت مد نظر یہ ہے۔عیسائیت سے مقابلہ کا طریق عیسائیت کے ابطال کے سلسلہ میں سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک باریک بین ، حق شناس محقق کی نظر سے یہ تجزیہ فرمایا ہے کہ کس طرح اور کن ذرائع سے عیسائیت پر غلبہ پایا جا سکتا ہے چنانچہ اس سلسلہ میں آپ تحریر فرماتے ہیں :- عیسائی مذہب کو گرانے کے لئے جو صورتیں ذہن میں آسکتی ہیں وہ صرف