کسر صلیب — Page 48
۳۸ قوم تکفیر کے ہتھیاروں سے آپ پر والدہ کہ رہی تھی اسی سے اور کتب تصنیف کیر اشتہارات اور تقاریر استیکی علاوہ تھیں۔اللہ تعالی نے آپ کو سلطان القلم کے لقب سے نوازہ تھا۔آپ کا راہوار فیلم ایک بحر ذخار تھا۔بعض اوقات صحن کے ایک طرف ایک دوات رکھ لیتے اور دوسری طرف دوسری دوات - ادہر جاتے تو قلم کو روشنائی سے تر کر لیتے اور چلتے چلتے لکھتے جاتے، ادہر جاتے تو خشک قلم کو پھر سیاہی میں ڈبو لیتے۔آپ کو تحریر کا اعجاز دیا گیا تھا۔آپ مجھی تھے لیکن بائی تن سے اوپر عربی کتب بطلب مقابلہ تصنیف فرمائیں لیکن اس اعجاز سے بڑھ کر اعجازہ آپ کو اسلام کی صداقت کے لئے نشان نمائی کا عطا کیا گیا تھا اور یہ وہ امتیازی وصف ہے جس مقام سے تمام متکلم پیچھے رہ جاتے ہیں اور حضور ایک بلند اور مضبوط چٹان پر کھڑے نظر آتے ہیں۔ایک تعلیم اسلام کی حقانیت کی دلیل تو دے سکتا ہے لیکن وہ سیکھرام کو خداتی قہری تجلی نہیں دکھا سکتا ، ایک متکلم خدا کے موجود ہونے کی دلیل دے سکتا ہے لیکن وہ خدا کا مقدس چہرہ دنیا کو نہیں دکھا سکتا اور آج اسلام کو اس متکلم کی ضرورت تھی جو ماضی کا حوالہ دینے کی بجائے حال کے مشاہدات دکھانے کی دعوت دے جو قیاسات عقلی اور احتمالات نطمنی کی بجائے تجربہ اور مشاہدہ پیش کرے اور دنیا کو لکان کہ کہہ سکتے سے کرامت گرچہ لیے نام و نشان است بیا بنگر از علمان محمد ایک اور ضروری وضاحت اس جگہ ایک نہایت ضروری امر کی وضاحت کر دینا ضروری معلوم ہوتا ہے۔گذشتہ باب میں ہم نے علم کلام کی تعریف متعین کی ہے اور اسکی بعد ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کے عیسائیت کے روئیں پیش کر دہ سب دلائل و براہین کو علم کلام ہی کے نام سے موسوم کر رہے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کوئی اصطلاحی تنظیم نہ : ناسنامه الفرقان به کوه مارچ ۶۱۹۶۶ ۳۳۵-۳۲ 12-