کسر صلیب

by Other Authors

Page 47 of 443

کسر صلیب — Page 47

رائج الوقت علم کلام کو بالکل بدل دیا اور اس کے ایسے اصول مقررہ فرمائے کہ نہ تو دشمن انکار کر سکتا ہے اور نہ ان کے مطابق وہ اسلام کے مقابلے میں ٹھہر سکتا ہے اگر وہ ان اصول کو رد کرتا ہے تب بھی مرتا ہے اور اگر قبول کرتا ہے تب بھی مرتا ہے۔نہ فرار میں اسے نجات نظر آتی ہے نہ مقابلے میں حفاظت " سے الغرض سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عیسائیت کے خلاف علم کلام کا یہ ایک اجمالی خاکہ ہے جس کی کسی قدر تفصیل آئندہ صفحات میں بیان کی جائیگی۔وباللہ التوفیق۔امتیازی شان ستید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے علم کلام کو اپنی قوت تاثیر اور جذب و کشش کے اعتبار سے بھی ایک امتیازی شان حاصل ہے۔آپ قسم کے بادشاہ تھے اور آپ کی تحریرات پڑھتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے کہ گویا خدائے رحمن نے مناسب اور موزوں الفاظ کو آپ کے تابع فرمان بنا دیا ہے۔بر حمل الفاظ بر جستہ تبصرہ اور مناسب حال تشبیہ و امثال آپ کے کلام میں اس کثرت سے نظر آتی ہیں کہ انسانی عقل حیران رہ جاتی ہے کہ خدایا یہ کسی انسانی کی تحریر ہے یا کوئی نوشتہ آسمانی ہے ! اگر ان حالات کا جائزہ لیا جائے جن میں سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا عظیم المرتبت ای علم کلام ہورمیں آیا تو یہ کہنا ہرگز ہرگز مبالغہ نہ ہوگا کہ یہ علم کلام اپنی ذات میں ایک معجزہ سے کم نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے علم کلام کی بلندشان ایک احمدی مضمون نگار کے الفاظ میں ملاحظہ ہو: بنو عباس کے ایسے بڑے مشکلم ابو الہندیل کے متعلق لکھا ہے کہ اس نے ساتھ کے قریب کتب لکھیں۔کہتے ہیں علم کلام پر سب سے پہلی کتاب اپنی لکھی۔ابو الہندیل کو بادشاہ کی سر پرستی حاصل تھی اُسے ساٹھ ہزار درہم سالانہ وظیفہ ملتا تھا۔بنوعباس اور خاندان برانکہ اس پر من برساتے تھے لیکن اس زمانہ کے موید من الله متکلم نے بھوکے رہ کر اور بعض اوقات صرف چنے چبا کر بڑھاپے اور بیماری میں جب : دعوة الامير ط ۱۲ ۱۲۲