کسر صلیب — Page 41
، سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا عیسائیت کے خلاف علم کلام اتنا عظیم الشان ، اتنا وسیع اور اتنا بیش قیمت ہے کہ میں اپنے قلم میں اس بات کی طاقت نہیں پاتا کہ اپنے آقا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے علم کلام کے محاسن کا احاطہ کر سکوں جن کو خدائے ذو العرش نے کے سلطان العلم کے آسمانی خطاب سے نوازا ہو اور جن کے فلم معارف رقم کو ذو الفقار علی قرار دیا گیا ہو ! حضور کے زمانہ میں دشمن تلوار کی بجائے قلم سے کر حملہ آور ہوا تھا۔چنانچہ آپ نے سنت ابنیاء کے مطابق اسی حربے سے دشمنوں کا جواب دیا جو انہوں نے اختیار کیا تھا۔آپ نے اپنے قلم کو جنبش دی اور آپ کے قلم سے نکلے ہوئے الفاظ سے وہ عظیم الشان انقلاب آخرین لٹریچر پیدا ہوا جنسی مذہبی دنیا میں ایک تہلکہ مچا دیا اور دنیا ایک نئے رنگ میں آگئی۔یہ وہ تبدیلی تھی جو توار کے ذریعہ کبھی تصور میں نہ آسکتی تھی۔آپ فرماتے ہیں۔صفیہ دشمن کو کیا ہم نے بحجبت پامال 3+ سیف کا کام قسلم سے ہے دکھایا ہم نے پھر اسی ضمن میں فرماتے ہیں :- "میں نے قصد کیا ہے کہ اب قلم اُٹھا کر پھر اس کو اس وقت تک موقوف نہ رکھا جائے جب تک کہ خدا تعالٰی اندرونی اور بیرونی مخالفوں پر کامل طور پر محبت پوری کر کے حقیقیت نیسویہ کے حربہ سے حقیقت دجالیہ کو پاش پاش نہ کرے۔لے نیز هنر بایا : اس وقت جو ضرورت ہے وہ یقینا سمجھ لو جیف کی نہیں بلکہ قلم کی ہے۔ہمارے مخالفین نے اسلام پر جو شبہات وارد کئے ہیں اور مختلف سائنسوں اور مکاید کی رو سے اللہ تعالیٰ کے سچے مذہب پر حملہ کرنا چاہا ہے انہی تجھے متوجہ کیا ہے کہ میں قلمی اسلحہ بہن کہ اس سائنس اور علمی ترقی کے میدان کار زار میں اتروں اور اسلام کی روحانی شجاعت اور باطنی قوت کا کر شہمہ بھی دکھلاؤں۔میں کب اس میدان کے قابل ہو سکتا تھا۔یہ تو صرف اللہ تعالیٰ کا فضل ہے ہے اور اس کی ہے جد عنایت ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ میرے جیسے عاجز انسان کے ہاتھ سے اس کے دین کی عزت ظاہر ہوا سے ه ) : نشان آسمانی مثه زیر عنوان ضروری گذارش (جلد) له : ملفوظات جلد اول مره۔