کسر صلیب — Page 40
i حضرت مسیح موعود علیہ السّلام کا علم کلام گذشتہ صفحات میں ہم نے سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عظیم الشان مشن کسیر ملیب اور اس کی تفصیلات کا جائزہ لیا۔جہاں تک حضرت مسیح پاک علیہ السلام کے اس علم کلام کا تعلق ہے جو عیسائیت کے رد میں ہے اس کا مرکزی نقط کسی مصیب ہے حضور علیہ السلام کی ساری توجہ اور جدوجہد اسی مرکزی نقطہ پر مرکو نہ رہی۔آپ کے سوانح حیات پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اپنی عمر کے ابتدائی ایام میں بھی حضور کو عیسائیت کے خلاف ایک زیر دست جوش عطا ہوا تھا۔آپ عیسائیوں سے تبادلہ خیالات کرتے اور اسلام کی تائید میں زبانی اور تحریری طور پر اپنے خیالات کا اظہار فرمایا کر تے تھے۔آپ نے فرمایا ہے :- ائیں پندرہ برس کا تھا جب سے ان (عیسائیوں۔ناقل ) کے اور میرے درمیان مباحثات شروع ہیں " کے ملفوظات جلد دہم میں آپ کی زندگی کی آخری تقریر درج ہے اس میں بھی آپ نے حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات کا ذکر فرمایا ہے۔اسی معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی ساری کی ساری زندگی کسیر صدی کے عظیم الشان مشن کی تکمیل کے لئے وقف تھی اور سچ تو یہ ہے کہ خدا کے اس برگزیده مسیح نے اخدا کی ہزار ہزار رحمتی اور برکتیں نازل ہوں اس مقدس وجود پر عیسائیت کے خلاف ایسا فقید المثال جہاد کیا کہ اس مذہب کا سارا تارو پود بکھیر کر رکھ دیا۔آپ نے عیسائیت کے باطل عقائد پر ایسے کاری وارہ کئے کہ عیسائیت اس ضرب کلیمی کی تاب نہ لاکمہ اب اس دنیا سے رخصت ہو رہی ہے اور وہ دن قریب نظر آتے ہیں جب سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پیدا کردہ علم کلام کے نتیجہ میں سعید فطرت لوگ عیسائیت کو تیاگ کہ اسلام اور احمدیت کے عافیت بخش مسالوں میں جگہ تلاش کریں گے۔بقوم محترم ملک عبدالرحمن صاحب خادم خالد احمدیت وہ منظر کسی قدر خادم مسرت آفرین ہوگا زمانے پر مسلط جب مرے آقا کا دیں ہوگا شه : ملفوظات جلد سوم هنا :