کسر صلیب — Page 433
: را چنانچہ یہ امر میرے ہاتھ پہ خدا تعالیٰ نے ایسا انجام دیا کہ عیسائی مذہب کے اصول کا خاتمہ کر دیا۔میں نے خدا تعالیٰ سے بصیرت کا ملہ پا کر ثابت کر دیا کہ وہ لعنتی موت کہ جو نعوذ بالله حضرت مسیح کی طرف منسوب کی جاتی ہے جس پر تمام مداد صلیبی نجات کا ہے وہ کسی طرح حضرت مسیح علیہ السلام کی طرف منسوب نہیں ہو سکتی اور کسی طرح لعنت کا مفہوم کسی را ستیانہ پر صادق نہیں آسکتا۔چنانچہ فرقہ پادریاں اس جدید ٹرنہ کے سوال سے جو حقیقت میں ان کے مذہب کو پاش پاش کرتا ہے ایسے لاجواب ہو گئے کہ جن جن لوگوں نے اس تحقیق پر اطلاع پائی ہے وہ سمجھ گئے ہیں کہ اس اصلی درجہ کی تحقیق نے صلیبی مذہب کو توڑ دیا۔بعض پادریوں کے خطوط سے مجھے معلوم ہوا ہے کہ وہ اس فیصلہ کرنے والی تحقیق سے نہایت ڈر گئے ہیں اور وہ سمجھ گئے ہیں کہ اس سے ضرور ملیسی مذہب کی بنیاد گر سے گی اور اس کا گرنا نہایت ہولناک ہو گا اور وہ لوگ در حقیقت اس مثل کے مصداق ہیں کہ برجی برء من جرحه السنان ولا يرجى برء من مزقه البرهان بینی جو شخص نیزہ سے زخمی کیا جائے اس کا اچھا ہونا اُمید کی جاتی ہے لیکن جو شخص بریانی سے ٹکڑے ٹکڑ سے کیا جائے اس کا اچھا ہو نا امید نہیں کی جاتی " سے پھر آپ فرماتے ہیں :۔" صلیب کی شکست میں کیا کوئی کسر باقی ہے ؟ موت مسیح کے مسئلہ نے ہی ملیب کو پاش پاش کر دیا ہے کیونکہ جب یہ ثابت ہو گیا کہ مسیح صلیب پر سرا ہی نہیں بلکہ وہ اپنی طبعی موت سے کشمیر میں آکر مرا تو کوئی عقلمند ہمیں بتائے کہ اس سے صلیب کا باقی کیا یہ بہتا ہے۔اگر تعصب اور ضد نے بالکل ہی انسان کے دل کو تاریک اور اس کی عقل کو نا قابل فیصلہ نہ بنا دیا ہو تو ایک عیسائی کو بھی یہ اقرار کرنا پڑے گا کہ اس مسئلہ سے عیسائی دین کا سارا تارو پودا دھڑ جاتا ہے یہ کہ کے نتیجہ میں عیسائیت اب حقیقت کے اعتبار سے ایک مردہ مذہب بن چکی ہے حق یہ ہے کہ اب عیسائیت ایک جسد بے جان کی طرح بے فیض لاشہ بن چکی ہے۔بحیثیت مذہب عیسائیت کی عظمت ختم ہو چکی ہے اور اب وہ اس قابل نہیں رہی کہ تا قیامت دوباره سربندی حاصل ہوسکے۔سیدنا حضرت المصلح الموعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : 14 : كتاب البریه ۲ تا ۲۶۳ حاشیه - جلد ۱۳ : ۱۵ - ملفوظات جلد چہارم ملاب