کسر صلیب — Page 432
۴۳۲ کے شواہد کو بچشم خود مشاہدہ کر سکتا ہے۔کسیر صلیب کا اس سے زیادہ واضح اور کیا ثبوت ہوگا کہ عیسائیوں میں اپنے مذہب سے نفرت اور بیزاری پیدا ہو رہی ہے۔ان میں مذہب سے بغاوت کے جذبات پیدا ہو رہے ہیں۔یہی نہیں بلکہ گرجا گھروں کی ویران حالت اور ان کا بے آباد ہو کر ہوٹلوں اور کلبوں میں تبدیل ہوتے چلے جانا عیسائیت کی شکست کی واضح علامت ہے۔کا ایک عجیب پہلو یہ ہے کہ اب عیسائیت میں اندرونی طور پر پرانے عقائد سے انحراف کی ایک رو پیدا ہوگئی ہے۔وہ عقائد جو کسی زمانہ میں عیسائیوں کے لئے سرمایہ افتخار بنے ہوئے تھے۔آج حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف سے کڑی تنقید اور محاسبہ کی وجہ سے ان کو قابل نفرت قرار د سے کہ الوداع کہا جا رہا ہے۔اس کی ایک تازہ مثال عیسائیوں کے موجودہ پوپ کا وہ اعلان ہے جس میں اس نے سابقہ عیسائی عقائد کو خیر باد کہتے ہوئے یہ بیان کیا ہے کہ مسیح کا صلیب پر مرنا نہیں بلکہ مسیح کا خون ہمارے گناہوں کا کفارہ ہے۔ظاہر ہے کہ فلسفہ نجات کی بنیاد میں یہ واضح تبدیلی صرف اور صرف حضرت مسیح پاک علیہ السلام کے علم کلام کا نتیجہ ہے جس میں مسیح کی صلیبی موت کی پر زور تردید کی گئی ہے۔پھر سبھی حضرات کے عقائد سے انحراف کرنے کا ایک اور ثبوت یہ حوالہ ہے جس میں لکھا ہے کہ :۔و نجات کے بارہ میں اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ اس کے لئے کفار سے کی ضرورت نہیں۔ہم میچ کی موت کے سبب نہیں بلکہ اس کی تعلیم پر عمل کرنے اور اسکی نمونے کی پیروی کرنے اور اس کی مرضی پر چلنے سے بچ سکتے ہیں۔اس قسم کے خیالات پروٹسٹنٹ کلیسیا میں عام طور پر پائے جاتے ہیں " اے مسیحی عقائد میں انحراف کی ان دو مثالوں سے یہ بتانا مقصود ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے علم کلام کی کاری ضرب سے عیسائی عقائد کی بنیاد ہل گئی ہے۔یہی کا حقیقی مفہوم ہے جی ظہور کا آغازہ ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں اور جوں جوں زمانہ گزرتا چلا جائیگا۔کسر مطلب کا ظہور روشن تر ہوتا چلا جائے گا۔انشاء اللہ تعالٰی۔ـ کے ظہور کے بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :۔" مسیح موعود کے وجود کی علت غائی احادیث نبویہ میں یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ عیسائی قوم کے دجل کو دور کر ے گا اور ان کے صلیبی خیالات کو پاش پاش کر کے دکھلا دے گا۔ه : بارہ سوالات حث :