کسر صلیب — Page 417
۴۱۰ فوت نہیں ہوئے بلکہ وہ صلیہ سے زندہ اتر آئے اور بعد انہاں انہوں نے کشمیر کی طرف ہجرت کی۔ہجرت مسیح وغیرہ سے متعلق تحقیق کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :۔یہ واقعات اس طرح سے عیسائی مذہب کو مٹاتے ہیں جیسا کہ دن چڑھ جانے سے رات مٹ جاتی ہے۔اس واقعہ کے ثابت ہونے سے عیسائی مذہب کو یہ صدمہ پہنچتا ہے جو اس چھت کو پہنچ سکتا ہے جس کا تمام مدار ایک شہتیر پر تھا۔شہتیر ٹوٹا اور چھت گری پس اسی طرح اس واقعہ کے ثبوت سے عیسائی مذہب کا خاتمہ ہے لہ اور ور سچ یہ ہے کہ ہجرت مسیح علیہ السلام کے واقعہ نے جو صلیبی موت) تردید میں ایک ناقابل تردید ثبوت ہے، واقعی عیسائی مذہب کو ایسے طور پر باطل ثابت کر دیا ہے کہ اب عیسائیوں کے پاس کوئی بھی واضح اور قطعی دلیل حضرت مسیح علیہ السلام کی صلیبی موت کی نہیں رہی۔جب یہ ثابت ہو گیا کہ حضرت مسیح علیہ السلام کشمیر آئے تھے تو پھر کیسے یہ مانا جا سکتا ہے کہ وہ صلیب پر فوت ہو گئے تھے۔ہجرت اور صلیبی موت یا ہم سے نہیں ہو سکتے اور جب ہجرت ایک قطعی اور یقینی امر ہے تو پھر لیبی موت لانگا ایک باطل امر ہے۔اٹھائیسویں دلیل با صلیبی موت کی تردید میں اٹھائیسویں دلیل کشمیر میں حضرت مسیح علیہ السلام کی قر کا موجود ہوتا ہے۔یہ قبر ہجرت کا ایک ناقابل تردید ثبوت ہے نیز اس کی یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام صلیہ سے زندہ اتر آئے تھے تب ہی تو وہ چل کر کشمیر آئے اور یہاں فوت ہو کر مدفون ہوئے۔پس قبر مسیح کا کشمیر مں ہونا صلیبی موت کی تردید کا ایک منہ بولتا ثبوت ہے۔حضور فرماتے ہیں:۔"حضرت عیسی کا نہ ندہ آسمان پر جانا محض گپ ہے بلکہ وہ صلیب سے بچ کو پوشیدہ طور پر ایران اور افغانستان کا سیر کرتے ہوئے کشمیر میں پہنچے اور ایک لمبی عمر وہاں شہر کی۔آخر فوت ہو کہ سرینگر محلہ خانیار میں مدفون ہوئے اور اب تک آپ کی وہیں قبر ہے۔ہزار ويَتَبَرَكَ بِهِ : ل نیز فرمایا : تحقیقات سے ان کی قبر کشمیر میں ثابت ہوتی ہے " سے له : راز حقیقت حاشیه ملا جلد ۱۴ بسته ضمیمه باین احمدیہ حصہ پنجم حاشیه ملت جلد ۲ با - ه ست بچن حاشیه ۱۲۳ - جلد ۱۰ : سے ار