کسر صلیب — Page 418
۴۱۸ اس بات کے ثبوت میں کہ کشمیر والی قبر حضرت مسیح علیہ السلام کی ہی ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مفصل بحث اپنی کتب مسیح ہندوستان میں اور زمانہ حقیقت وغیرہ میں فرمائی ہے۔کتاب راز حقیقت میں تو حضور نے اس قبر کا نقشہ بھی درج فرمایا ہے۔حضور نے اس ضمن میں متعدد دلائل بیان فرمائے ہیں اور تحریری بیانات کے علاوہ زبانی روایات وغیرہ سے بھی استدلال فرمایا ہے۔اس ساری کی ساری تحقیق اور دلائل کا اس جگہ بیان کرنا تو باعث تطویل ہوگا۔بطور نمونہ اس جگہ صرف ایک حوالہ درج در کرتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :- سب سے اخیر شاہزادہ نبی کی قبر جوسری نگر محلہ خانیار میں ہے جس کو عوام شہزادہ لوز آسف نبی کی قبر اور بعض عیسی صاحب کی قبر کہتے ہیں۔اس مطلب کی مؤید ہے اور اس میں ایک کھڑکی بھی ہے جو بہ خلاف دنیا کی تمام قبروں کے اب تک موجود ہے۔۔۔۔۔اور نبی کا لفظ بھی جو اس صاحب قبر کی نسبت کشمیر کے ہزارہا لوگوں کی زبان پر جاری ہے یہ بھی ہمار سے مدعا کے لئے ایک دلیل ہے کیونکہ نبی کا لفظ عبری اور عربی دونوں نہ بانوں میں مشترک ہے۔دوسری کسی زبان میں یہ لفظ نہیں آیا۔---- پھر شہزادہ کے لفظ پر غور کر کے اور بھی ہم اصل حقیقت سے نزدیک آجاتے ہیں اور پھر کشمیر کے تمام باشندوں کا اس بات پر اتفاق دیکھ کہ کہ یہ نبی جس کی کشمیر میں بر ہے ہمار ے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے چھ سو برس پہلے گزرا ہے صاف طور پر حضرت علی علیہ السلام کو متعین کر رہا ہے اور صفائی سے یہ فیصلہ ہو جاتا ہے کہ یہ ہے وہ پاک اور معصوم نبی اور خدا تعالیٰ کے جلال کے تخت سے ابدی شہزادہ ہے جس کو نالائق اور بد قسمت یہودیوں نے صلیب کے ذریعہ سے مارنا چاہا تھا کے الغرض اس قسم کے متعدد دلائل بیان کرنے کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ استدلال فرمایا ہے کہ یہ کشمیر والی قبر واقعی حضرت مسیح علیہ السلام کی ہے۔اس انکشاف کی اہمیت کیا ہے ؟ اس۔! سلسلہ میں حضور فرماتے ہیں : ہر ایک دانشمند سمجھ سکتا ہے کہ یہ ایک ایسا ثبوت ہے کہ ایسی یکدفعہ عیسائی مذہب کا تانا بانا ٹوٹتا ہے اور انیس سو برس کا منصوبہ ایک دفعہ کالعدم ہو جاتا ہے ہے تبر مسیح کے کشمیر میں موجود ہونے سے صلیبی موت کی تردید کا استدلال بہت واضح ہے کشمیر میں قبر اسی صورت میں ہو سکتی ہے کہ حضرت مسیح نے صلیب سے نجات پا کہ کشمیر کی طرف ہجرت کی ہو ورنہ اگر وہ : كشف الغطاء من ٣ - جلد ١٢ : --: را از حقیقت حاشیه ملا جلد ۱۴ :