کسر صلیب

by Other Authors

Page 416 of 443

کسر صلیب — Page 416

۴۱۶ (۲) ثبوت جو نہیں ملے ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ نصیبین سے ہوتے ہوئے پشاور کی راہ سے پنجاب میں پہنچے اور چونکہ سردا کے باشندے سے تھے اسلئے اس ملک کی شدت گرمی کا تحمل نہ کر سکے۔لہذا کشمیر میں پہنچ گئے اور سرینگر کو اپنے وجود یا جود سے شرف بخشا سرینگر کی زمین مسیح کے قدم رکھنے کی جگہ ہے۔غرض حضرت صحیح سیاحت کرتے کہ تے کشمیر۔۔۔۔پہنچ گئے۔لے میں نے ایک وسیع تحقیقات سے ثابت کیا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں اور مجھے بڑے پختہ ثبوت اس بات کے ملے ہیں کہ آپ کو خدا تعالیٰ نے صلیب سے نجات دے کر ہندوستان کی طرف ان یہودیوں کی دعوت کے لئے روانہ کیا جو بخت نصر کے ہاتھ سے متفرق ہو کر فارس اور تبت اور کشمیر میں آکر سکونت پذیر ہو گئے تھے۔چنانچہ آپ نے ان ملکوں میں ایک مدت تک رہ کر اور پیغام اپنی پہنچا کہ آخر سری نگر میں وفات پائی اور آپ کا مزاید مقدس سرینگر محلہ خانیار میں موجود ہے جو شہزادہ نبی یو نہ آسف کی مزاہ کہلاتی ہے۔یسوع کا لفظ جیزس کے لفظ کی طرح اختلاط زبان کی وجہ سے یوز آسف ہو گیا ہے یوز آسف کا نام عبرانی سے مشابہ ہونا اور روز اسف کا نام نبی مشہور ہونا جو ایسا لفظ ہے کہ صرف اسرائیلی اور اسلامی انبیاء پر بولا گیا ہے اور پھر اس نبی کے ساتھ شہزادہ کا لفظ ہوتا اور پھر اسی نبی کی صفات حضرت مسیح علیہ السلام سے بالکل مطابق ہونا اور اس کی تعلیم انجیل نیل کی اخلاقی تعلیم سے بالکل ہم رنگ ہوتا اور پھر مسلمانوں کے علم میں اس کا مدفون ہونا اور پھر انہیں سو سال تک اسکی مزار کی مدت بیان کئے جانا اور پھر اس زمانہ میں ایک نگریز کے ذریعہ سےبھی انجیل برآمد ہونا ار اس انجیل سے صریح طور پر حضرت علی علیہ اسلام کا اس ملک میں آنا ثابت ہونا۔یہ تمام ایس اور ہیں کہ ان کو یکجائی طور پر دیکھنے سے ضرور یہ نتیجہ نکلا ہے کہ بلا شیعہ حضرت علی علیہ السلام اس ملک میں آئے تھے اور اسی جگہ فوت ہوئے " " الفرض اس طرح حضور نے حضرت مسیح علیہ اسلام کے کشمیر آنے کے متعلق اپنی تحقیق کو مکمل فرمایا ہے اس تحقیق سے حقیقت دو اور دو چارہ کی طرح ثابت ہو جاتی ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام ہرگز صلیب پر : تحفہ گولڑویہ منت - جلد ۱۷ : 14 -۳ را به حقیقت حاشیه مش - جلد ۱۴ : نه شور کشف الغطاء من - جلد ۱۴ :