کسر صلیب

by Other Authors

Page 412 of 443

کسر صلیب — Page 412

۴۱۲ پھر اس کے بعد حضور نے یہ بیان فرمایا ہے کہ ہجرت کرنا انبیاء کی سنت ہے لہذا سنت انبیاء کے مطابق حضرت مسیح علیہ السلام کے لئے بھی وطن سے ہجرت کرنا ضروری تھا۔اس سلسلہ میں حضور نے فرمایا : - " پر ایک نبی کے لئے ہجرت مسنون ہے اور سیح نے بھی اپنی ہجرت کی طرف انجیل میں اشارہ فرمایا ہے اور کہا کہ نہی ہے عزت نہیں۔۔۔۔۔مگر اپنے وطن میں۔مگر افسوس ہمارے مخالفین ایسی بات پر بھی غور نہیں کرتے کہ حضرت مسیح نے کب اور کس ملک کی طرف ہجرت کی بلکہ زیادہ تر تعجب اس بات سے ہے کہ وہ اس بات کو تو مانتے ہیں کہ احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ مسیح نے مختلف ملکوں کی بہت سیاحت کی ہے بلکہ ایک وجہ تسمیہ اسم مسیح کی یہ بھی لکھتے ہیں لیکن جب کہا جائے کہ وہ کشمیر میں بھی گئے تھے تو اس سے انکار کرتے ہیں حالانکہ جس حالت میں انہوں نے جان لیا کہ حضرت مسیح نے اپنے نبوت کے ہی زمانہ میں بہت سے ملکوں کی سیاحت بھی کی کیا وجہ کہ کشمیر جان ان پر حرام تھا ؟ کیا ملک نہیں کہ کشمیر میں بھی گئے ہوں اور وہیں وفات پائی ہو " اے نیز فرمایا : کی ملک انبیاء علیہم السلام کی نسبت یہ بھی ایک سنت اللہ ہے کہ وہ اپنے ملک سے ہجرت کرتے ہیں۔۔۔۔پس ضرور تھا کہ حضرت عیسی بھی اس سنت کو ادا کرتے ہو انہوں نے واقعہ صلیت کے بعد کشمیر کی طرف ہجرت کی۔انجیل میں بھی اس ہجرت کی طرف اشارہ ہے کہ نبی ہے عزت نہیں مگر اپنے وطن ہیں۔اس جگہ نبی سے مراد انہوں نے اپنے وجود کو لیا ہے" سے پھر اسی تسلسل میں مزید فرمایا :- "خدا تعالی کی اس قدیم سنت کے موافق کہ کوئی اولوالعزم نبی ایسا نہیں گزرا جی تھی قوم کی ایذاء کی وجہ سے ہجرت نہ کی ہو۔حضرت عیسی نے بھی تین بریس کی تبلیغ کے بعد مطلبی فتنہ سے نجات پا کر ہندوستان کی طرف ہجرت کی۔اور یہودیوں کی دوسری قوموں کو جو بابل کے تفرقہ کے زمانہ سے ہندوستان اور کشمیر اور تبت میں آئے ہوئے تھے خدا تعالی کا پیغام پہنچا کہ آخر کا ر خاک کشمیر جنت نظیر میں انتقال فرمایا اور سرینگر خانیار کے محلہ میں با عزانیہ کار تمام دفن کئے گئے۔آپ کی قبر بہت مشہور ہے۔ہزار ويتبرك به سه - ے۔تحفہ گولڑویہ ص حاشیہ - جلد ۱۷ : شده در نیمه بر این احمدیہ حصہ پنجم باشید من ۳ - جلد ۲ س را از حقیقت ۲ - جلد ۱۴ : در راز :