کسر صلیب — Page 411
۱۱م ملابت ہوا کہ حضرت مسیح علیہ السلام صلیب پر فوت نہیں ہوئے کیونکہ صلیب کارانہ می نتیجہ لعنت کا وارد ہوتا ہے کہ پر پر جو حضرت مسیح علیہ السلام پر وارد نہیں ہوئی اور نہ عقل وارد ہو سکتی ہے۔متفرق براہین عقلی دلائل کے علاوہ بعض اور دلائل بھی ہیں جن سے حضرت مسیح علیہ السلام کی صلیبی موت کی گیند اور تردید ہوتی ہے۔اب ان متفرق دلائل کو ایک ترتیب سے بیان کیا جاتا ہے۔ستائیسون دليل یا حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کی صلیبی موت کے عقیدہ کی تردید میں ایک نہایت نه به دست تاریخی شہادت ان کا شام سے کشمیر کے ملک میں ہجرت کرنا ہے۔اول تو ہجرت کرنا انبیاء کی سنت ہے دوسرے تاریخی طورہ کہ یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے اپنے وطن کو چھوڑا اور ملک کشمیر میں وارد ہوئے۔ان کا نام "مسیح" اس بات کا ثبوت ہے کہ انہوں نے ہجرت کی جو سیاحت کا مستلزم ہے۔پس حضرت مسیح علیہ السلام کا ہجرت کرنا ایک مسلم امر ہے۔صلیبی موت کی تردید میں ہمارا استدلال یہ ہے کہ ہجرت کا سوال تب ہی پیدا ہو سکتا ہے کہ وہ صلیہ سے زندہ اتر آئے ہوں۔اگر صلیب پر مر گئے تھے تو ہجرت کا سوال ہے معنی ہے۔حضرت مسیح علیہ السلام کا مقصد بعثت بھی ہجرت کے حق میں ایک زبر دست قرینہ ہے کیونکہ وہ بنی اسرائیل علیہ کی طرف بھیجے گئے تھے اور بنی اسرائیل کے دس قبائل ملک کشمیر سی آباد تھے۔پھر ہجرت کا ایک ثبوت اہل کشمیر اور افغان قبائل کا بنی اسرائیل ہوتا ہے۔الغرض اس قسم کے متعد د ثبوت پیش فرماتے ہوئے اس زمانہ میں مامور ند انہ سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ تحقیق پیش فرمائی ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے حادثہ صلیہ کے چنگل سے نجات پا کہ ملک کشمیر کی طرف ہجرت کی ہے۔حضور نے یہ تحقیق اپنی کتاب مسیح ہندوستان میں اور راز حقیقت وغیرہ میں بیان فرمائی ہے " یسے پہلے حضور نے اس امر کولیا ہے کہ حضرت مسیح علیہ اسلام کی ہجرت کا عقید ہ کوئی بے ثبوت خیال نہیں۔فرمایا :- یادر ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کا کشمیر کی طرف سفر کہنا ایسا امر نہیں ہے کہ جو بے دلیل ہو بلکہ بیڑ سے بڑے دلائل سے یہ امر ثابت کیا گیا ہے کا سنہ - ه ضمیمه بر این احمدیہ حصہ پنجم من جلد ۲۱ به