کسر صلیب

by Other Authors

Page 410 of 443

کسر صلیب — Page 410

۴۱۰ (A) (1) " تورات کی رو سے مصلوب لعنتی ہو جاتا ہے اور لعنت کا لفظ عبرانی اور عربی میں مشترک ہے جس کی یہ معنے ہیں کہ ملعون خدا سے در حقیقت دُور جاپڑے اور خدا اس بیزانہ اور وہ خدا سے بیزار ہو جائے اور خدا اس کا دشمن اور وہ خدا کا دشمن ہو جائے تو پھر نعوذ باللہ خدا کا ایسا پیارا ایسا برگزیدہ ، ایسا مقدس نبی جو مسیح ہے اس کی نسبت ایسی بے ادبی کوئی بھی تعلیم کرنے والا ہر گز نہیں کرے گا ؟ اے مسیح علیہ السلام کی نسبت کوئی عقلمند یہ عقیدہ ہر گنہ نہیں رکھے گا کہ نعوذ باللہ کسی وقت ان کا دل لعنت کی نہر ناک کیفیت سے رنگین ہو گیا تھا۔کیونکہ لعنت مصلوب ہونے کا نتیجہ تھا پس جبکہ مصلوب ہونا ثابت نہ ہوا بلکہ یہ ثابت ہوا کہ آپ کی ان دعاؤں کی برکت، سے جوہ ساری رات باغ میں کی گئی تھیں اور فرشتے کی اس منشاء کے موافق جو پہلا طوس کی بیوی کے خواب میں حضرت مسیح کے بچاؤ کی سفارش کے لئے ظاہر ہوا تھا اور خود حضرت مسیح علیہ السلام کی اس مثال کے موافق جو آپ نے یونس نبی کا تین دن مچھلی کے پیٹ میں رہنا اپنے انجام کار کا ایک نمونہ ٹھہرایا تھا ، آپ کو خدا تعالیٰ نے صلیب اور اس کے پھل سے جو لعنت ہے نجات بخشی یا لے (۹) ایسا خیال دیعنی مسیح پر لعنت کے وارد ہونے کا ناقل، صرف حضرت مسیح علیہ السلام کی شان نبوت اور مرتبہ رسالت کے ہی مخالف نہیں بلکہ ان کے اس دعوی تکمال اور پاکیزگی اور محبت اور معرفت کے بھی مخالف ہے جو انہوں نے جابجا انجیل میں ظاہر کیا ہے۔انجیل کو پڑھ کر دیکھو کہ حضرت عیسی علیہ السلام صاف دعوی کرتے ہیں کہ میں جہان کا نور ہوں ، میں ہادی ہوئی، اور میں خدا سے اعلیٰ درجہ کی محبت کا تعلق رکھتا ہوں اور میں نے اس سے پاک پیدائش پائی ہے اور میں خدا کا پیارا بیٹا ہوں۔پھر با وجود ان غیر منفک اور پاک تعلقات کے لعنت کا نا پاک مفہوم کیونکر مسیح کے دل پر صادق آسکتا ہے۔ہر گز نہیں۔پس بلا شبہ یہ بات ثابت نا ہے کہ مسیح مصلوب نہیں ہوا یعنی صلیب پر نہیں مرا کیونکہ اسکی ذات صلیہ کے نتیجہ سے پاک ہے اور جبکہ مصلوب نہیں ہوا تو لعنت کے ناپاک کیفیت سے بے شک اس کی دل کو بچایا گیا ہے الغرض ان تو حوالوں سے یہ بات پوری طرح واضح ہے کہ لعنت جو صلیب کا ایک لازمی نتیجہ ہے ہر گز حضرت سیح ناصری علیہ السلام پر وارد نہیں ہو سکتی اور نہ عقلی اس کا انتساب ان کی طرف کیا جاسکتا ہے۔پس : كشف الغطاء ص۳ - جلد ١٢ : مسیح ہندوستان میں صلا - جلد ۱ : 16-14۔شهر ستاره قیصریه منت - جلد ۱۵ : 4