کسر صلیب — Page 405
۴۰۵ پس انجیل کی گواہی تو قابل قبول نہ رہی۔اسکے بعد عیسائیوں کے پاس کوئی تاریخی ثبوت حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات کا ہر گزنہ نہیں رہتا۔پس ثابت ہوا کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی صلیبی موت کا دعویٰ ایک ایسا دعوی ہے جس پر کوئی ٹھوس دلیل نہیں۔انا جیل سے مسیح علیہ السلام کی صلیبی موت کی تردید پر دلائل بیان کرنے کے بعد حضور علیہ السلام حرف آخر کے طور پر فرماتے ہیں :- ہ کوئی عیسائی ایسا نہیں جو انجیل پر غور کرو سے اور پھر یقینی طور پر یہ اعتقاد رکھے کہ سچے مچ صلیب کے ذریعہ فوت ہو گیا " سے عقلی براہین اس وقت تک قرآن مجید، احادیث نبویہ اور اناجیل کی گرو سے حضرت مسیح علیہ السلام کی صلیبی موت کی تردید میں دلائل بیان ہو چکے ہیں۔اگر اس عقیدہ پر انہ روئے عقل غور کیا جائے تو پھر بھی بہت سے دلائل سے اس کا بطلان ثابت ہوتا ہے۔عقلی دلائل مندرجہ ذیل ہیں :- ي پچیسویں دلیل پہلی عقلی دلیل یہ ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کا مشن اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ صلیب پر انکی وفات نہ ہو کیونکہ اس وقت ان کا مشن نا تمام تھا اور مشن میں ناکامی ایک نبی کی شان سے بعید ہے۔کا تا حضرت عیسی علیہ السلام کا مشن بنی اسرائیل کی گمشدہ بھیڑوں کی اصلاح کون تھا۔ان کے مشن کے بنی بارہ میں مندرجہ ذیل حوالے قابل غور ہیں لکھا ہے :- جو میری اُمت اسرائیل کی گلہ بانی کرے گا ؟ رمتی ہے) خود حضرت مسیح علیہ السلام نے فرمایا ہے :- میں اسرائیل کے گھرانے کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے سوا اور کسی کے پاس نہیں بھیجا گیا۔متی ) تاریخی طور پر یہ ثابت ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کے وقت میں یہودی قبائل منتشر تھے۔آستر اور آپ کے مطابق بنی اسرائیل اس وقت ہندوستان سے لے کر کوشش تک آباد تھے۔اب اگر یہ مانا جائے کہ --- ازالہ اوہام ص ۲۹ - جلد ۳ :