کسر صلیب — Page 404
۴۰۴ ئے عیسائیوں کے پاس اگر کوئی ثبوت ہے تو وہ انجیل کے بیانات ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ صرف انجیل کی گواہی اپنے اندر کچھ بھی وقعت اور وزن نہیں رکھتی۔کیونکہ : - ے تو انجیل کے سارے بیانات ہی مشتبہ اور ناقابل استناد ہیں کیونکہ اناجیل کا الہامی مقام اواك ہر گز ثابت نہیں اور اسکی انسانی کلام ہونے کا تو محقق عیسائیوں کو بھی اعتراف ہے۔دوستیر اس ایک واقعہ کے بارہ میں ہی اناجیل کے بیانات میں اس قدر اختلاف اور تضاد نظر آ ہے کہ ان میں تطبیق کی کوئی صورت نظر نہیں آتی اور اس سامر سے بیان کی حقیقت مشکوک ہو کہ رہ جاتی ہے۔تیسرے خوداناجیل کے بہت سے بیانات سے مسیح کی صلیبی موت کی نفی ہوتی ہے جیسا کہ ہم گذشتہ دلائل کے ضمن میں دیکھ آئے ہیں۔پس اگر ایک آدھ آیت میں مرنے کا ذکر مل بھی جائے تو ہم اس کو تحریف اور ایزادی قراللہ دینے میں بالکل حق بجانب ہوں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی انجیل کی شہادت کو ناقابل قبول قرار دیا ہے اور اس کی ایک مزید نا وجہ یہ بیان فرمائی ہے کہ حادثہ صلیب کا کوئی چشم دید گواہ موجود نہیں جو یہ گواہی دے سکے کہ میں نے مسیح وجہ کو صلیب پر مرتے دیکھا ہے۔وجہ یہ ہے کہ مسیح علیہ السلام کے سب حواری تو ان کو چھوڑ کر بھاگ گئے تھے پس انجیل کی کوئی گواہی کسی چشم دید گواہ کی روایت پر نہیں ہے لہذا قابل قبول نہیں ہے۔دید ان سب وجوہ سے حضرت مسیح پاک علیہ السلام نے اناجیل کی شہادت کو باطل قرار دیا ہے۔آخری امر کی خاص طور پر وضاحت کرتے ہوئے حضور فرماتے ہیں :- " ان چند حواریوں کی گواہی کیونکر ائق قبول ہو سکتی ہے جو واقعہ صلیہ کے وقت۔حاضر نہ رہ ہے اور جن کے پاس شہادت رویت نہیں ہے یا اے نیز فرمایا : "اگر انجیل والوں نے اس کی یہ خلاف لکھا ہے تو ان کی گواہی ایک ذرہ اعتباہ کے لائق نہیں کیونکہ اول تودہ لوگ واقعہ صلیہ کے وقت حاضر نہیں تھے اور اپنے آقا سے طرز بیوفائی اختیارہ کر کے سب کے سب بھاگ گئے تھے اور دوسرے یہ کہ انجیلوں میں بکثرت اختلاف ہے یہاں تک کہ بر نسبانس کی انجیل میں حضرت مسیح کے مصلوب ہونے سے انکار کیا گیا ہے اور تیسرے یہ کہ ان ہی انجیلوں میں جو بڑی معتبر کبھی جاتی ہیں لکھا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام واقعہ صلیت کے بعد اپنے حواریوں کو طے اور اپنے زخم ان کو دکھلائے " و کشف الغطاء حاشیه مشت - جلد ۱۴ - راز حقیقت حاشیه مه جلد ۱۴ :