کسر صلیب — Page 406
- ) حضرت مسیح علیہ السلام ۲۳ سال کی عمر میں صلیب پر دیئے گئے اور مر گئے تو ان کا مشن نا تمام رہتا ہے اگر یہ کہا جائے کہ وہ آسمان پر چلے گئے تو سخت اعتراض پیدا ہوتا ہے کہ وہ اپنا فرض منصبی چھوڑ کر آسمان پر کیوں چلے گئے۔الفرض عقلی طور پر یہ مانا پڑتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام مصلیب پر ہر گنہ فوت نہیں ہوئے۔کیونکہ ۳۳ سال کی عمر میں وفات ہو جانے کی صورت میں وہ ان کھوئی ہوئی بھیڑوں سے ملنے اور ان کی اصلاح کرنے سے محروم رہتے ہیں جن کو راہ راست پر لانا ان کا اصل مشن تھا۔حضرت مسیح پاک علیہ السلام فرماتے ہیں:۔اما القول بالرفع فهو مردود تبيع فان الصعود إلى السماء قبل تكميل الدعوة الى القبائل كلهم كانت معصية صريحة وجريمة قبيحة ومن المعلوم ان بنى اسرائيل فى عهد عیسی علیه السلام كانوا متفرقين منتشرين في بلاد الهند و فارس و کشمیر فكان فرضه ان يدركهم ويلاقيهم و يهديهم إلى صراط الرتب القدير۔وترك الفرض معصية والاعراض عن قوم منتظرين جريمة كبيرة تعالى شان الانبياء المعصومين من هذه الجرائم التي هي الشفع الذمائم له نیز فرمایا :- " جس حالت میں صلیب دینے کے وقت ابھی تبلیغ حضرت علی علیہ السلام کی ناتمام تھی اور ابھی دس تو میں یہود کی دوسرے ملکوں میں باقی تھیں جو ان کے نام سے بھی بے خبر تھیں تو پھر حضرت عیسی کو یہ کیا سو بھی کہ اپنا منصبی کام نا تمام چھوڑ کر آسمان پر جا بیٹھے " کہ اس دلیل کا ایک پہلو اور بھی ہے کہ اگر واقعۂ صلیب پر حضرت مسیح علیہ السلام کی زندگی کا اختتام کا مان لیا جائے تو پھر ان کا کوئی ایسا قابل ذکیہ کانہ نامہ ہی نہیں ملتا کہ جس کی وجہ سے ان کا ذکرہ خاص عقیدت اور احترام سے یاد رکھا جائے۔کیا عیسائی ان بارہ حواریوں کو پیش کریں گے جن میں سے ایک تو مرتد ہو گیا اور ایک نے ۳۲ روپے لے کر حضرت مسیح کو پکڑوا دیا ؟ ایک انگریز مصنف وا قعر صلیب کا ذکر کرنے کے بعد لکھتا ہے :- "If that had been all, it is unlikely that Jesus would ever have been heard of in later centuries, for during his life time his ل: : له : الهدى والتبصرة لمن يرى ١٣٣٠ جلد ابنه : - ذاكرة الشهادتين م٢ - جلد ۶۲۰ ، :-