کسر صلیب

by Other Authors

Page 403 of 443

کسر صلیب — Page 403

اور وہ یہ ہے ! من رأى ان الموتى وثبوا من قبورهم ورهبوا الى دور هم فاته يطلق من في السجن، وهو كتاب تعطير الأنام في تدبير المنام مصنفة قطب الزمان شیخ عبدالغنی التا لیسی من - ترجمہ : اگر کوئی یہ خواب دیکھے یا کشفی طور پر مشاہد کرے النابلسي کہ مردے قبروں میں سے نکل آئے اور اپنے گھروں کی طرف رجوع کیا تو اس کی یہ تعبیر ہے کہ ایک قیدی قید سے رہائی پائے گا اور ظالموں کے ہاتھ سے اس کو مخلصی حاصل ہوگی۔طریر بیان سے ایک معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایسا قیدی ہوگا کہ ایک شان اور عظمت رکھتا ہو گا۔اب دیکھو ی تعبیر کیسی معمولی طور پر حضرت سیح علیہ السلام پر صادق آتی ہے اورفی الفور بجھا جاتا ہے کہ اسی اشارہ کے ظاہر کرنے کے لئے فوت شده را ستیانہ زندہ ہو کر شہر میں داخل ہوتے ہو نظر آئے کہ تباہی فراست معلوم کریں کہ حضرت مسیح فیلیسی موت سے بچائے گئے " ہے پس یہ واقعہ جو اناجیل میں درج ہے ایک بہت واضح ثبوت ہے اور گویا ایک گواہ رویت کے طور پر حضرت مسیح علیہ السلام کی صلیب سے نجات پر واضح ثبوت ہے۔یہ کشف در اصل اہل فراست لوگوں کے لئے دلیل راہ ہے کہ حضرت مسیح علی السلام ہرگز ہرگز صیہ کے زریعہ فوت نہیں ہوئے بلکہ انہوں نے صلیبی موت سے مخلصی حاصل کی۔چوبیسو کی دلیل میرے اس بیان کے لحاظ سے انجیلی دلائل میں سے آخری بیل حضرت مسیح علیہ السلام کی صلیبی موت کے رد میں یہ ہے کہ عیسائیوں کے پاس حضرت مسیح علیہ السلام کے صلیب پر سر جانے کی کوئی یقینی اور قطعی دلیل نہیں ہے۔اور ظاہر ہے کہ جب تک اتنے اہم واقعہ کا کوئی ناقابل تردید ثبوت نہ ہو اسکی صحت پر یقین نہیں کیا جا سکتا۔حتی یہ ہے کہ عیسائیوں کے پاس نہ کوئی تاریخی ثبوت ہے اور نہ اس واقعہ کا کوئی چشم دید گواہ ہے جس کی گواہی کو معتبر سمجھا جاسکے۔قرآن مجید نے بھی فرمایا ہے : اِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِيهِ لَفِي شَكٍّ مِنْهُ مَا لَهُمْ بِهِ مِنْ عِلْمِ الَّا اتَّبَاعَ الظر - کہ واقعہ صلیہ کے بارہ میں اختلاف کرنے والے شک میں مبتلر ہیں ان کے پاس کوئی قطعی اور یقینی دلیل نہیں ہے وہ صرف ظن اور گمان کی پیروی کرنے والے ہیں۔: مسیح ہندوستان میں ۳-۲۶ - جلد ١٤ : - !