کسر صلیب — Page 396
PAY۔ان کی عمر میں برکت دی جائے گی۔د - اس کی قبر شرفاء کے درمیان ہوگی وغیرہ وغیرہ۔ہمارا استدلال یہ ہے کہ اگر حضرت مسیح علیہ السلام کی صلیبی موت کا اعتقاد رکھا جائے تو ان باتوں میں سے کوئی سی بات بھی پوری نہیں ہوتی۔ہاں اگر یہ تسلیم کیا جائے کہ وہ صلیب کی موت سے نجات پاکر کشمیر کی طرف ہجرت کر آئے جہاں انہوں نے تبلیغ کی ، اپنے روحانی پیروکاروں کی تعداد میں اضافہ کیا ، لمبی عمر پائی اور عزت و احترام کے ساتھ دفن ہوئے (جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بدلائل ثابت فرما دیا ہے) تو اس صورت میں ہی یہ پیش گوئی سچی اور درست ثابت ہوتی ہے۔پس یہ ایک نہ بر دست دلیل ہے اور مسیح پاک علیہ السلام کا یہ فقرہ بالکل درست ہے کہ مسیح علیہ السلام کی صلیبی موت سے نجات کے بارہ میں عیسعیاہ باب ۵۳ میں اشارہ پایا جاتا ہے۔بیسویر بيسوين دليل اس عنوان کے تحت میں حضرت مسیح علیہ السلام کے واقعات صلیب کی مجموعی شہادت کو پیش کرنا چاہتا ہوں۔اگرچہ اس سلسلہ میں بعض امور کا ذکر علیحدہ علیحدہ دلیل کے طور پر پہلے گزر چکا ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ اگر صلیہ کے واقعات کو باہم ملا کر دیکھا جائے تو صاف نظر آتا ہے کہ خدائی منشاء یہی تھا کہ حضرت مسیح کو صلیب کی موت سے بچایا جائے ورنہ یہ کیسے ممکن ہے کہ زمین و آسمان سے غیر معمولی اسباب پیدا ہو جائیں اور حالات کا مریخ پور سے طور پر بدل کر ایسی صورت پیدا کر دی جائے کہ ان میں حضرت مسیح علیہ اسلام کے بچ جانے کی سبیل نکل آئے۔امر واقعہ یہ ہے کہ خُدا تعالیٰ نے غیب سے غیر معمولی اسباب پیدا کر دیئے جنہوں نے حضرت مسیح کو صلیب سے بچانے میں مدد دی۔یہ متفرق اسباب و عوامل مل کر زیر دست دلیل بنتے ہیں اس بارہ میں میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حوالہ جات پیش کرنے پر اکتفا کرتا ہوں حضور فرماتے ہیں : صلیب کیسے جو واقعات انجیل میں لکھے نہیں خود ان سے معلوم ہوتا ہے کہ سیح صلیب پر نہیں مرا سب سے اول یہ ہے کہ خود مسیح نے اپنی مثال یونس سے دی ہے کیا یونس مچھلی کے پیٹ میں زندہ داخل ہوئے تھے یا مرکز اور پھر یہ کہ پیلاطوس کی بیوی نے ایک ہولناک خواب دیکھا تھا جس کی اطلاع پیلاطوس کو بھی اس نے کر دی اور وہ اس فکر میں ہو گیا کہ اس کو بچایا جاد سے اور اس لئے پیلا طوس نے مختلف پیرایوں میں مسیح کے چھوڑ دینے