کسر صلیب

by Other Authors

Page 395 of 443

کسر صلیب — Page 395

۳۹۵ یہ دونوں حوالے اس تحریف شدہ بائیل سے لئے گئے ہیں۔جو موجودہ نہ مانہ میں ملتی ہے۔۱۸۹۱ ء کی مطبوعہ عربی بائیبل میں یہ الفاظ لکھے ہیں :- " لكن اخزائنا حملها و اوجاعنا تحملها ونحن حسبناها مصابًا مصر وبا من الله ومذلولاً وهو مجروح لاجل محاصينا مسحوق لاجل آثامنا۔۔۔۔۔جعل مع الاشرار قبره ومع غنى عند موته بری نسلاً نطول ايامه ومسرة الرب بيده تندج " حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے طبیعیاہ باب ۵۳ کے بعض حصوں کو اصل عبرانی زبان میں کتاب تحفہ گولڑویہ میں نقل فرمایا ہے اور اس کا ترجمہ یوں لکھا ہے :- اور اس کے بقائے عمر کی جو بات ہے سو کون سفر کر جائے کیونکہ وہ علیحدہ کیا گیا ہے قبائل کی زمین سے۔اور کی گئی شریروں کے درمیان اس کی قبر پر وہ دولتمندوں کے ساتھ ہوا اپنے مرنے میں جبکہ تو گناہ کے بدلہ میں اس کی جان کو دے گا۔(تو وہ بچ جائے گا ) اور صاحب اولاد ہوگا اور اس کی عمر لمبی کی جائے گی وہ اپنی جان کی نہایت سخت تکلیف نہ ، دیکھے گا یعنی صلیب پر بے ہوشی پر وہ پوری عمر پائے گا کے الے اس حوالہ کے فقرہ " پر وہ دولت مندوں کے ساتھ ہوا اپنے مرنے میں؟ پر حضور علیہ السلام نے یہ حاشیہ بھی درج فرمایا ہے :- اس آیت کا یہ مطلب ہے کہ صلیب سے اتار کر مسیح کو سزا یافتہ مردوں کی طرح قبرس رکھا جاؤ سے گامگر چونکہ وہ حقیقی طور پر مردہ نہیں ہو گا اس لئے اس قبر میں سے نکل آئے گا اور آخر عربیہ اور صاحب شرف لوگوں میں اس کی قبر ہوگی اور یہی بات ظہور میں آئی کیونکہ سری نگر محله خانیار میں حضرت عیسی علیہ السلام کی اس موقع پر قبر ہے جہاں بعض سادات گرام اور اولیاء اللہ مدفون ہیں۔منہ یہ ہے اس سار سے بیان سے واضح ہے کہ لیسعیاہ باب ۵۳ میں ایک پیشگوئی کی گئی تھی کہ حضرت مسیح علیہ السلام پر یہ بائیں صادق آئیں گی کہ : 1- ایک دکھ اور مصیبت کی تکلیف آئے گی جس سے وہ بچ جائیں گے۔ب۔ان کی نسل بڑھائی جائے گی۔2: تحفہ گولڑویہ ص۲۲۵ - ۲۲۹ - جلد ۱ : :: :- حاشیہ تحفہ گولڑویہ ص۲۲۵ - جلد ۱۷ :