کسر صلیب

by Other Authors

Page 394 of 443

کسر صلیب — Page 394

۳۹۴ واضح ہو کہ مسیح کو بہشت میں داخل ہونے اور خدا کی طرف اُٹھائے جانے کا وعدہ دیا گیا تھا مگر وہ کسی اور وقت پر موقوف تھا جو سیج پر ظاہر نہیں کیا گیا تھا جیسا کہ قرآن کریم میں اتنی متونيك ورافعك التى وارد ہے۔سو سخت گھبراہٹ کے وقت میں مسیح نے خیال کیا کہ شاید آج ہی وہ وعدہ پورا ہو گا۔چونکہ مسیح ایک انسان تھا اور اس نے دیکھا کہ تمام سامان میرے مرنے کے موجود ہو گئے ہیں۔لہذا اس نے برعایت اسباب گمان کیا کہ شاید آج میں مر جاؤں گا۔سو بباعث ہیبت تجلی ملالی حالت موجودہ کو دیکھ کر ضعف بشریت اس پر غالب ہو گیا تھا تبھی انھی دل برداشتہ ہو کر کہا ایلی ایلی دما سبقتنی یعنی اسے میرے خدا! اسے میرے خدا ! تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا یا اے ان مندرجہ بالا حوالوں سے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بیانات سے یہ حقیقت اظہر من الشمس ہو جاتی ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام ہرگز صلیب پر فوت نہیں ہوئے ورنہ وہ واقعات جو حادثہ صلیہ کے بعد انا جیل کی رو سے ثابت ہیں ہر گنہ ان کو پیش نہ آتے۔اس دلیل کے سلسلہ میں حضور علیہ السلام کے حوالہ حیات اس قدر واضح ہیں کہ کسی مزید وضاحت کی ضرورت نہیں۔انیسون بليل حضرت مسیح علیہ اسلام کی صلیبی موت کی تردید میں انیسویں دلیل وہ ہے جس کا استنباط حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس فقرہ سے ہوتا ہے جو درج ذیل ہے۔حضور نے فرمایا ہے :- یسعیاہ نبی کی کتاب باب -۹ ۵۳ میں بھی اسی کی طرف اشارہ ہے " سے چنانچہ اس غرض سے جب ہم یسعیاہ نبی کی کتاب کے ۵۳ باب کو دیکھتے ہیں تو اس میں یہ عبارت ملتی ہے :- لیکن خداوند نے پسند کیا کہ اسے کچلے۔انہیں اسے نگین کیا جب اس کی جان گناہ کی ! قربانی کے لئے گذرانی جائے گی تو وہ اپنی نسل کو دیکھے گا اسکی عمر دراز ہوگی اور خداوند کی مرضی اس کے ہاتھ کے وسیلہ سے پوری ہوگی دیسعیاہ ہے ) پھر لکھا ہے : ۵۳ اسکی قبر بھی شہریوں کے درمیان ٹھہرائی گئی اور وہ اپنی موت نہیں دو لمنڈی کے ساتھ ہوا رییسعیاه ) ---: - اندا اوہام حصہ اول ص ۳۳ جلد کے : ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ۳۲ - جلد ۲ :۔۳ "