کسر صلیب — Page 380
سے خون بھی نکلا۔مروہ کا خون جم جاتا ہے۔یہ لے اگر یہ سوال ہو کہ جب خون اور پانی بہہ نکلا اور یہ زندگی کی علامت ہے تو پھر اس سے سپاہیوں نے کیوں ہ نہ کچھ لیا کہ حضرت مسیح زندہ ہیں اس کا جواب یہ ہے کہ اصل سکیم یہی تھی کہ مسیح کو بچایا جائے۔ایک سپاہی نے جس کو شاید اس سکیم کا علم نہ تھا غلطی سے میں کے جسم کو چھید ڈال لیکن باقی ساتھیوں نے فورا ہی اس بات کو دبا دیا اور ظاہر نہ ہونے دیا مبادا شور پڑ جائے اور سیح کو بچانا مشکل ہو جائے بس یہ اخفاء تو ایک سوچی بھی سکیم کے مطابق محض حضرت مسیح علی السلام کو بچانے کی خاطر کیاگیاتھا۔اگر صدی کے سب حالات پر نظر کی جائے تو ایک سکیم صاف طور پر کار فرما نظر آتی ہے۔اس امر کی وضاحت کرتے ہوئے حضور نے تحریر فرمایا ہے :- پھر ہڈیوں کے توڑنے کے وقت خدا تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ کا یہ نمونہ دکھایا کہ بعض سپاہی پلا طوس کے جن کو درپردہ خواب کا خطرناک انجام سمجھایا گیا تھاوہ اس وقت موجود تھے جن کا مدعا یہی تھی کہ کسی طرح یہ بلا سیح کے سریہ سے مل جائے ایسانہ ہو کہ سیح کے قتل ہونیکی وجہ سے وہ خواب سچی ہو جائے جو پلا طوس کی عورت نے دیکھی تھی اور ایسا نہ ہو کہ پیلاطوس کسی بلا میں پڑ سے سو پہلے انہوں نے چوروں کی ہڈیاں توڑائیں اور چونکہ سخت آندھی تھی اور تاریخی ہوگئی تھی اور ہوا تیز چل رہی تھی اس لئے لوگ گھر لائے ہوئے تھے کہ کہیں جلد گھڑی کو جائیں سوسپاہیوں کا اس موقع پر خوب داؤ لگا۔جب چوروں کی ہڈیاں توڑ چکے اور مسیح کی نوبت آئی تو ایک سپاہی نے یو ہنی ہاتھ رکھ کہ کہ دیا کہ یہ تو مر چکا ہے کچھ ضرور نہیں کہ اسکی ہڈیاں توڑی جائیں اور ایک نے کہا کہ میں ہی اس لاش کو دفن کر دوں گا اور آندھی ایسی چلی کہ یہودیوں کو اسی دھکے دیکر اس جگہ سے نکالا پس اس طور سے مسیح زندہ بچ گیا اور پھر وہ حواریوں کو ملا اور ان سے پھیلی لے کر کھائی " سے الغرض اس دلیل کا خلاصہ یہ ہے کہ جب مسیح کے جسم سے خون جاری ہو گیا تھا تو یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ وہ صلیہ سے اترنے کے وقت زندہ تھے۔ہمار سے استدلال کی بنیاد یہ ہے کہ کبھی مردہ کے جسم سے خون جاری نہیں ہوتا۔پندرھویں دلیل پندرھویں دلیل صلیبی موت کے رد میں یہ ہے کہ صلیہ ہے اتارنے کے بعد حضرت مسیح علیہ السلام کی مسیح ہندوستان میں م۲ - جلد ۱۵ : ه: ازالہ اور عام حصہ اول صنا ۲۹۷-۲۹- جلد ۳