کسر صلیب — Page 379
۳۷۹ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ان سب حوالوں سے پیلاطوس کا کردار واضح ہے اور یہ ایک زیر دست قرینہ ہے کہ اس میسج کو صلیب سے بچانے کی ہر ممکن کوشش کی اور انجام کار وہ اس میں کامیاب بھی ہو گیا اور حضرت مسیح علیہ السلام صلیب پر چڑھائے جانے کے باوجود اسکی کوششوں سے زندہ ہی آبار لئے گئے۔چودھویں دلیل حضرت مسیح علیہ السلام کے صلیب پر فوت نہ ہونے کی ایک اہم دلیل یہ ہے کہ جب صلیب سے اتارنے کے بعد ایک سپاہی نے غلطی سے ان کی پیسٹی میں ایک بھالا مارا تو اس میں سے فی الفور خون اور پانی بہر نکلا۔اگر اس دلیل کا بنظر غائر جائزہ لیا جائے تو یہ ایک زیر دست دلیل نظر آتی ہے۔دوران خون زندگی کی ایک خاص علامت ہے اور عام مشاہدہ ہے کہ کبھی کسی مردہ کے جسم سے خون جاری نہیں ہوتا بلکہ مرنے کے بعد اس کا خون منجمد ہو جاتا ہے۔پس اگر صلیب سے اترنے کے بعد حضرت مسیح کے جسم سے خون بہہ نکلا ہے تو یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ حضرت مسیح اس وقت زندہ تھے۔حضرت میں پاک علیہ السلام اس دلیل کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : جب یسوع کے پہلو میں ایک خفیف سا پھیر دیا گیا تو اس میں سے خون نکلا اور خون بہتا ہوا نظر آیا اور ممکن نہیں کہ مُردہ میں خون بہتا ہوا نظر آئے۔11 بہے نیز فرمایا : پولس کے بعض خطوط سے صاف ظاہر ہوتا ہے مسیح جب صلیب پر سے اتارا گیا تو اس سے - زندہ ہونے پر ایک اور پختہ ثبوت یہ پیدا ہو گیا کہ اسکی پینٹی کے چھیدنے سے فی الفور اس میں سے خون رواں ہوا ہے پھر اسی سلسلہ میں آپ فرماتے ہیں :- "سپاہیوں میں سے ایک نے اس کی میلی چھیدی تولی الفور اس سے ہو اور پانی نکلا۔دیکھو یوحنا باب ۱۹ آیت ۳۱ سے ۳۴ تک " سے نیز فرمایا : " وہ ضرور صلیب پر سے ان دو چوروں کی طرح زندہ اتارا گیا۔اسی وجہ سے پہلی چھید نے ه : ايام الصلح من جلد ۱۴ : : مسیح ہندوستان میں من ۲ - جلد ۱۵ : ۱۹ - ازالہ اوہام حصہ اول من جلد ۳ به