کسر صلیب — Page 381
: بڑیاں نہیں توڑی گئیں جبکہ عام طریق یہ تھاکہ لوگوں کی ہڈیاں ضرور توڑی جاتی تھیں تا ان کے مرنے میں کوئی شک نہ رہے۔اس دلیل کا ذکر ضمناً البعض گذشتہ دلائل میں بھی ہو چکا ہے حالات سے ثابت ہے کہ حضرت مسیح علیہ السّلام صرف چند گھنٹوں کے لئے صلیب پر رہے۔اس صورت میں یہ بات زیادہ ضروری تھی کہ ان کی ہڈیاں توڑی جاتیں لیکن خلاف قیاس ان کی ہڈیاں نہ توڑی گئیں۔جس کی وجہ غالباً پیلاطوس حاکم وقت کی کوئی در پر وہ ہدایت تھی جس کی پابندی کرتے ہوئے حاکم کے کارہ ندوی مینی سپاہیوں نے دوسرے چوروں کی تو نڈیاں توڑیں لیکن مسیح کو ویسے ہی چھوڑ دیا۔حالات پر نظر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ صرف حضرت مسیح کو زندہ بچانے کی ایک کوشش تھی اور یہ امر دلیل ہے اس بات کی کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے صلیب پر جان نہیں دی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :- یسوع کی ہڈیاں توڑی نہ گئیں جو مصلوبوں کے مارنے کے لئے ایک ضروری فعل تھا کیونکہ تاریخ سے ثابت ہے کہ تین دن صلیب پر رکھ کر پھر بھی بعض آدمی زندہ رہ جاتے تھے پھر کیونکر ایسا شخص جو صرف چند منٹ صلیب پر رہا اور ہڈیاں نہ توڑی گئیں وہ مرگیا ؟ نیتر فرمایا : " " یہ بھی فیسوع کے زندہ رہنے کی ایک نشانی ہے کہ اسکی ہڈیاں صلیب کے وقت نہیں توڑی گئیں اور صلیب پر سے اتارنے کے بعد چھیدنے سے خون بھی نکلا اور اسی حواریوں کو یہ سکے بعد اپنے زخم دکھلائے اور ظاہر ہے کہ نئی زندگی کے ساتھ زخموں کا ہونا تمکن نہ تھا یہ تے راسی سلسلہ میں آپ فرماتے ہیں : منجملہ ان شہادتوں کے جو انجیل سے ہم کو لی ہیں انجیل کی وہ عبارت ہے جو ذیل میں لکھتا ہوں" پھر یہودیوں نے اس لحاظ سے کہ لاشیں سبت کے دن صلیب پر نہ رہ جائیں کیونکہ وہ دن طیاری کا تھا بلکہ بڑا ہی سبت تھا۔پلاطوس سے عرض کی کہ ان کی ٹانگیں توڑی اور لاشیں اتاری جائیں۔تب سپاہیوں نے آکر پہلے اور دوسرے کی ٹانگیں جو اسکے ساتھ صلیب پر کھینچے گئے تھے توڑیں لیکن جب انہوں نے یسوع کی طرف آکے دیکھا کہ وہ مر چکا ہے تو اس کی ٹانگیں نہ توڑیں پر سپاہیوں میں سے ایک نے بھالے سے اس کی پسلی چھیدی اور فی الفور اس سے ہو اور پانی نکلا ہے دیکھو یوحنا باب ۱۹ آیت ۳۱ سے ۲۴ تک سے دید ه - ايام الصلح من جلد ۱۴ : ١٢ : مسیح ہندوستان میں مشک - جلدها : : سراجدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب من۔جلد ۱۲ :