کسر صلیب — Page 366
۳۲۶ اگر تو یہ پیالہ مجھ سے ٹال دے تو تجھ سے بعید نہیں۔تو جو چاہتا ہے کرتا ہے۔اس جگہ عربی انجیل میں یہ عبارت لکھی ہے۔فبکی ابدموع جارية، وعبرات متحدرة فسمع التقوائی یعنی میسوع مسیح اس قدر رویا کہ دعا کرتے کرتے اس کے منہ پر آنسو رواں ہو گئے اور وہ آنسو پانی کی طرح اس کی رخساروں پر بہنے لگے اور وہ سخت رویا اور سخت دردناک ہوا۔تب اس کے تقویٰ کی وجہ سے اس کی دعا سنی گئی اور خدا کے فضل نے کچھ اسباب پیدا کر دیئے کہ وہ صلیب پر سے زندہ اتارا گیا ہے کہ (11) حضرت عیسی علیہ السلام کو صلیب پر چڑھا دیئے جانے کے بعد خدا نے مرنے سے بچا لیا اور ان کی وہ دُعا منظور کرلی جو انہوں نے دردِ دل سے باغ میں کی تھی یہ ہے (۱۳) حضرت عیسی علیہ السلام کی اپنی دعا بھی جو انجیل میں موجود ہے یہی ظاہر کر رہی ہے جیسا کہ اس میں لکھا ہے دعابد موعِ جارية وعبرات متحدرة فسمع لتقواه یعنی عیسی نے بہت گریہ و زاری سے دُعا کی اور اس کے آنسو اس کے رخساروں پر تے تھے۔پس بوجہ اس کے تقویٰ کے وہ دُعا منظور ہو گئی۔سے (۱۳) انہوں نے جان توڑ کر دُعا کی اور وہ دعا قبول ہو گئی اور خدا نے اس تقدیر کو اس " توڑ طرح بدل دیا کہ بگفتن سولی پر چڑھائے گئے۔قبر میں بھی داخل کئے گئے مگر یونس کی طرح زندہ ہی داخل ہوئے اور زندہ ہی نکلے" کے (۱۳) " عیسائی کہتے ہیں کہ۔۔۔۔دعا قبول نہ ہوئی لیکن ہم کہتے ہیں کہ وہ قبول ہو گئی اور خدا نے اس کو صلیب سے بچالیا۔اور صرف یونس کی طرح قبر میں داخل ہوا اور یونس کی طرح زندہ ہی داخل ہوا اور زندہ ہی نکلا " شد (16) (۱۵) یسوع کی دعائیں صاف یہ لفظ ہیں کہ یہ پیالہ مجھ سے ٹل جائے سو خدا نے وہ پیالہ ٹال دیا اور ایسے اسباب پیدا کر دیئے کہ جو جان بچ جانے کے لئے کافی تھے جیسے یہ امر کہ عیسوع مسیح معمول کے مطابق چھ سات دن صلیب پر نہیں رکھا گیا بلکہ اسی وقت اتارا گیا اور جیسے کہ یہ امر کہ اس کی ہڈیاں نہیں توڑی گئیں جس طرح کہ اور لوگوں کی ہمیشہ :- تذكرة الشهادتين من جلد ۲۰ به هانه تذكرة الشهادتين من جلد ۲۰: ه : : براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۳۳۳ جلد ۲۱ شه: حقیقة الوحی حاشیه من جلد ۲۲ : YAS شه : حقیقة الوحی منشا جلد ۲۲ :