کسر صلیب — Page 367
(14) توڑی جاتی تھیں اور یہ خلاف قیاسی امر ہے کہ اس قدر خفیف سی تکلیف سے جان نکل جائے " اے کا انجیل سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت سیح علیہ السلام کو دلی یقین تھا کہ اس کی وہ دیگا ضرور قبول ہو گئی اور اس دعا پر اس کو بہت بھروسا تھا اسی وجہ سے جب وہ پکڑا گیا اور صلیب پر کھینچا گیا اور ظاہری علامات کو اس نے اپنی امید کے موافق نہ پایا تو بے اختیارہ اسکے منہ سے نکل کر۔آہلی اہلی کیا سبقتانی اسے میرے خدا! اسے میرے خدا! تو نے کیوں مجھے چھوڑ دیا۔یعنی مجھے یہ امید ہرگزہ نہیں تھی کہ میرا انجام یہ ہو گا اور میں صلیب پر مروں گا اور میں یقین رکھتا تھا کہ تو میری دُعا سُنے گا پس ان دونوں مقامات انجیل سے صاف ظاہر ہے کہ مسیح کو خود دلی یقین تھا کہ میری دعاضر در قبول ہوگی اور میرا تمام رات کا رو رو کر دعا کرنا ضائع نہیں جائے گا " سے ان واضح حوالہ جات کے بعد مزید کسی وضاحت کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔یہ امر واضح ہے کہ دعا کی قبولیت ، جو ایک یقینی اور قطعی امر ہے ، کے بعد حضرت مسیح علیہ السلام کے صلیہ سے زندہ اترنے میں کوئی شک باقی نہیں رہتا۔عیسائی بعض اوقات یہ عذر کرتے ہیں کہ مسیح کی دعا صرف اس وجہ سے قبول نہ ہوئی کہ ان کے آنے کا مقصد ہی ہمارے گناہوں کا کفارہ ہونا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس عذر کو رد کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ۔اگر کوئی کہے کہ وہ کفارہ ہونے کے واسطے آئے تھے اس لئے یہ دُعا قبول نہیں ہوئی ہے ہم کہتے ہیں کہ جب ان کو معلوم تھا کہ وہ کفارہ کے لئے آئے ہیں پھر اس قدیر بزدلی کے کیا معنی ہیں۔اگر ایک افسر طاعون کی ڈیوٹی پر بھیجا جا دے اور وہ کہ د سے کہ یہاں خطر سے کا محل ہے مجھ فلاں جگہ بھیج دو توکیا و احمق نہ کھا جائے گا۔جبکہ مسیح کومعلوم تھا کہ وہ صرف کھارہ ہی ہونے کو بھیجے گئے ہیں تو اس قدر لمبی دعاؤں کی کیا ضرورت تھی ؟ ابھی کیا کفارہ زیر تجویز امر ؟ زیر تھا یا ایک مقرر شدہ امر تھا ہم سے گویا کسی پہلو سے عیسائیوں کے لئے جائے قرار نہیں۔بالاآخر یہی ماننا پڑے گا کہ مسیح نے صلیب سے نجات کی دعا کی، وہ دعا قبول ہوئی اور سیح صلیب سے زندہ اتر آیا۔: حقیقة الوحی ص ۲۳ روحانی خزائن جلد ۲۲ : ه: مسیح ہندوستان میں منگ ۳۱۔روحانی خزائن جلد ۱۵ ۳-۳۱ ۳۳ ے: ملفوظات جلد دوم ص :