کسر صلیب — Page 365
۳۶۵ نامنظور کر ے۔خاص کر وہ دعا جو ایک مقبول کے منہ سے نکلی ہو۔پس اس تحقیق ظاہر ہے کہ حضرت مسیح کی دعا قبول ہو گئی تھی۔(6) مسیح نے صلیبی موت سے بچنے کے لئے باغ میں ساری رات دُعا کی اور اس کی آنسو جاندی ہو گئے تب خدا نے بباعث اس کے تقویٰ کے اس کی دُعا قبول کی اور اس کو صلیبی موت سے بچا لیا جیسا کہ خود انجیل میں بھی لکھا ہے" سے بالیا (۸) " خود اس نے (حضرت مسیح نے ناقل) خدا تعالیٰ کی طرف سے اپنے شاگردوں کو تعلیم دی تھی کہ اگر دعا کرو گے تو قبول کی جائے گی بلکہ ایک مثال کے طوربہ پر ایک قاضی کی کہانی بھی بیان کی تھی کہ جو نہ خلقت سے اور نہ خدا سے ڈرتا تھا اور اس کہانی سے بھی مدعا یہ تھا کہ تا حواریوں کو یقین آجائے کہ بے شک خدائے تعالٰی دُعا سنتا ہے۔اور اگرچہ سیح کو اپنے پر ایک بڑی مصیبت کے آنے کا خدائے تعالیٰ کی طرف سے علم تھا گرمی نے عارفوں کی طرح اس بناء پر دعا کی کہ خدائے تعالی کے آگے کوئی بات انہونی نہیں اور ہر ایک اثبات اس کے اختیار میں ہے لہذا یہ واقعہ کہ نعوذ باللہ مسیح کی خود کا قبول نہ ہوئی۔یہ ایک ایسا امر ہے جو شاگردوں پر نہایت بداثر پیدا کر نیوالا تھا۔سو کیونکہ یمکن تھا کہ ایسانمونہ جو ایمان کو ضائع کرنے والا تھا حواریوں کو دیا جاتا جبکہ انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا کہ مسیح جیسے بزرگ نبی کی تمام رات کی پر سوز دعا قبول نہ ہوسکی تو اس بد نمونہ سے ان کا ایمان ایک سخت امتحان میں پڑتا تھا۔لہذا خدائے تعالی کی رحمت کا تقاضا یہی تھا کہ اس دُعا کو قبول کرتا۔یقینا سمجھو کہ وہ دعا جو شمین نام مقام پر کی گئی تھی ضرور قبول ہوگئی تھی یا سے (9) خدا اپنے پیار سے بندوں کی ضرور سنتا ہے اور شریروں کے مشورہ کو باطل کر کے کی دیکھاتا ہے تو پھر کیا وجہ کہ مسیح کی دُعا نہیں سنی گئی۔ہر ایک صادق کا تجربہ ہے کہ بیقراری اور مظلومانہ حالت کی دعا قبول ہوتی ہے بلکہ صادق کیلئے مصیبت کا وقت نشان ظاہر کرنے کا وقت ہوتا ہے۔مجھے (۱) لکھا ہے کہ جب مسیح کو یقین ہو گیا کہ یہ خبیث یہودی میری جان کے دشمن ہیں اور مجھے نہیں چھوڑتے تب وہ ایک باغ میں رات کے وقت جا کہ نارہ زمانہ رویا اور دعا کی کہ یا اہنی سه : - تریاق القلوب اتاه جلد : مسیح ہندوستان میں ملا جلد ۱۴ : ے لیکچر لاہور ملا جلد ۲۰ ہے مسیح ہند دستان میں صب جلد ۱۴ ؛