کسر صلیب — Page 364
۳۶۴ یہ توفیق دی جائے کہ تمام رات درد دل سے کسی بات کے ہو جانے کے لئے دعا کر ے اور اس دعا کے لئے اس کو پورا جوش عطا کیا جائے اور پھر وہ دعا نا منظور اور نا مقبول ہو۔جب سے کہ دنیا کی بنیادپری اس وقت سے آج تک اس کی نظیر نہیں ملی اور خداتعالی کی تمام کتابوں میں بالاتفاق یہ گواہی پائی جاتی ہے کہ راستبازوں کی دُعا قبول ہوتی ہے اور ان کے کھٹکھٹانے پر ضرور کھولا جاتا ہے۔پھر سیح کی دعا کو کیا روک پیش آئی کہ باوجود ساری رات کی گریہ زاری اور شور و غوفا کے ردی کی طرح پھینک دی گئی اور قبول نہ ہوئی۔کیا خدا تعالیٰ کی کتابوں میں اس واقعہ کی کوئی اور نظیر بھی ہے کرکوئی مسیح جیسا راستبانہ یا اس سے کمتر تمام رات رو رو کر اور جگر پھاڑ کر ڈھاکہ سے کہ میری جان گھٹ رہی ہے اور میرا دل گرا جاتا ہے اور پھر ایسی دردناک دعا قبول نہ ہو ؟ ہم دیکھتے ہیں کہ اگر خدا تعالیٰ ہماری کوئی دعا قبول کرنا نہیں چاہتا تو جلد ہمیں اطلاع بخشتا ہے اور اس درد ناک حالت تک نہیں نہیں پہنچاتا جس میں اس کا قانون قدرت یہی واقعہ ہے کہ اس درجہ یہ وفادار بندوں کی دعا پہنچ کر ضرور قبول ہو جایا کرتی ہے۔پھر مسیح کی دعا کو یا بلا پیش آئی کہ نہ وہ قبول ہوئی اور نہ ہی انہیں پہلے سے اطلاع دی گئی کہ یہ دعا قبول نہیں ہوگئی اور نتیجہ یہ ہوا کہ یقول عیسائیوں کے خدا کی اس خاموشی سے سیج سخت حیرت میں پڑا یہانتک کہ جب صلیب پر چڑھایا گیا تو بے اختیار عالم نومیدی میں بول اُٹھا۔ایلی ایلی نما سبقنانی یعنی اسے میرے خدا! اسے میرے خدا ! تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا۔غرض میں نے اپنی کتابوں سے حق کے طالبوں کو اس بات کی طرف توجہ دلائی ہے کہ وہ پہلے اس بات کو ذہن میں رکھ کہ کہ مقبولوں کی اوّل علامت مستحباب الدعوات ہوتا ہے خاص کر اس حالت میں جبکہ ان کا درد دل نہایت تک پہنچ جائے پھر اس بات کو سوچیں کہ کیونکہ ممکن ہے کہ باوجودیکہ حضرت مسیح علیہ السلام نے مارے غم کے لیے جان اور نا توان ہو کو ایک باغ میں جو پھل لانے کی جگہ ہے بکمال درد ساری رات دعا کی اور کہا کہ اسے میرے باپ اگر ممکن ہو تو یہ پیالہ مجھ سے ٹال دیا جائے مگر پھر بھی بایں ہمہ سوز و گدانہ اپنی دنیا کا پھل دیکھنے سے نامراد رہا۔یہ بات عارفوں اور ایمانداروں کے نزدیک ایسی جھوٹ ہے جیسا کہ دن کو کہا جائے کہ رات ہے یا اُجالے کو کہا جائے کہ اندھیرا ہے یا چشمۂ شیریں کو کہا جائے کہ تلخ اور شور ہے۔جو دُعا میں رات کے چار پہر برابر سوزد گراند کو ہے۔جس اور گریہ و زاری اور سجدات اور جان کا ہی میں گزریں کبھی لیکن نہیں کہ خدائے کریم و رحیم ایسی دھا