کسر صلیب — Page 358
YDA قصے کو یونس نبی کے قصے سے کیا مشابہت اور ممکن نہیں کر بی جھوٹ بو سے اس لئے یہ اس بات پر یقینی دلیل ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام صلیب پر فوت نہیں ہوئے اور نہ مردہ ہونے کی حالت میں قبر میں داخل ہوئے" سے سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مندرجہ بالا بیشک حوالہ جات سے یہ بات به تمام و کمال یک پایہ ثبوت کو پہنچ جاتی ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام ہرگز صلیب پر فوت نہیں ہوئے۔نوین دلیل حضرت مسیح علیہ السلام کے صلیب کے زندہ اترنے پر ایک زبردست دلیل حاکم وقت پہلا طوس کی بیوی کا وہ خواب ہے جس میں اسے بتایا گیا تھا کہ اگر مسیح کو موت کی سزادی گئی تو ان پر عذاب نازل ہوگا۔اس خواب کی بناء پر پہلا طوریس نے ایسا اہتمام کیا کہ کسی طرح حضرت مسیح مصیب پر مرنے سے بچے جائیں پیلاطوس کسی جیسا کہ ہم آئندہ اسی باب میں رکھیں گے۔اس خواب کا انا جیل میں واضح طور پریڈ کر تا ہے۔مثلاً ایک جگہ لکھا ہے :- جب وہ تخت عدالت پر بیٹھا تھا تو اس کی بیوی نے اسے کہلا بھیجا کہ تواس راستباز سے کچھ کام نہ رکھ کیونکہ میں نے آج خواب میں اس کے سب سے بہت دُکھ اُٹھایا ہے۔۲ اب ہمارا استدلال یہ ہے کہ اگر اس خواب کے با وجود حضرت مسیح کو صلیب دیا گیا ہوتا اور وہ صلیب پر مر گئے ہوتے تولازمی تھا کہ پیلاطوس کے خاندان پر خدائی عذاب نازل ہوتا لیکن تاریخ سے ایسا ہرگزنہ ثابت نہیں ہے۔پس ثابت ہوا کہ حضرت مسیح صلیب پر نہیں مرسے ورنہ خدا کی دکھائی ہوئی خواب باطل اور یغو ثابت ہوتی ہے جو خدائی شان سے بعید ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس دلیل کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :- (۱) میلی طوسی کی بیوی کو فرشتہ نے خوابمیں کہا کہ اگر یسوع مسولی پر مر گیا تو اس میں تمہاری تباہی ہے اور اس بات کی خداتعالی کی کتابوں میں کوئی نظیر نہیں ملتی کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے کسی کو خواب میں فرشتہ کہے کہ اگر ایسا کام نہیں کرو گے تو تم تباہ ہو جاؤ گے اور پھر فرشتہ کے کہنے کا ان کے دلوں پر کچھ بھی اثر نہ ہو اور وہ کہنا رائیگان جائے اور اسی طرح یہ بات بھی سراسر فضول اور جھوٹ معلوم ہوتی ہے کہ خدا تعالٰی کا تو یہ پختہ ارادہ ہو کہ وہ یسوع مسیح کو سے تریاق القلوب مال جلد ۱۵ : : ستی : -