کسر صلیب — Page 357
۳۵۷ (IA) کی مثال بے ہودہ اور بے معنی نہ ہو۔انجیل میں ایک دوسری جگہ بھی اس امر کی طرف اشارہ ہے جہاں لکھا ہے کہ زندہ کو مردوں میں کیوں کھینچتے ہو۔بعض حواریوں کا یہ خیال کہ حضرت عیسی صلیب پر فوت ہو گئے تھے ہر گنہ صحیح نہیں ہے کیونکہ آپ کا قبر سے نکلنا اور حواریوں کو اپنے زخم دکھانا ، یونس نبی سے اپنی مشابہت فرمانا۔یہ سب باتیں اس خیال کورہ ڈکرتی ہیں اور اس کی مخالف ہیں۔لے "انجیل شریف پر غور کرنے سے۔اعتقاد اصلیبی موت کا - ناقل) سراسر باطل ثابت ہوتا ہے۔متی باب ۱۴ آیت۔نہ میں لکھا ہے کہ جیسا کہ یونس تین رات دن مچھلی کے پیٹ میں رہا ۲۰ ولیساہی ابن آدم تین رات دن زمین کے اندر رہے گا۔اب ظاہر ہے کہ یونس تھیلی کے پیٹ میں مرا نہیں تھا اور اگر زیادہ سے زیادہ کچھ ہوا تھا تو صرف بے ہوشی اور خشی تھی اور خدا کی پاک کتابیں یہ گواہی دیتی ہیں کہ یونس خدا کے فضل سے مچھلی کے پیٹ میں زند رہا اور زندہ نکلا اور آخر قوم نے اس کو قبول کیا۔پھر اگر حضرت مسیح علیہ السلام مچھلی لے کے پیٹ میں مرگئے تھے تو مردہ کو زندہ سے کیا مشابہت اور زندہ کو مردہ سے کیا مناسبت ا سکے رو۱) حقیقت یہ ہے کہ چونکہ مسیح ایک نبی صادق تھا اور جانتا تھا کہ وہ خدا جس کا وہ پیارا تھا۔لعنتی موت سے اس کو بچائے گا اس لئے اسی خُدا سے الہام پا ک پیشگوئی کے طور پر یہ مثال بیان کی تھی اور اس مثال میں جتلا دیا تھا کہ وہ صلیب پر نہ مرے گا اور نہ لعنت کی کی ٹکڑی پر اس کی جان نکلے گی بلکہ یونس نبی کی طرح صرف غشی کی حالت ہوگی اور سیح نے اس مثال میں یہ بھی اشارہ کیا تھا کہ وہ زمین کے پیٹ سے نکل کر پھر قوم سے ملے گا اور یونس کی طرح قوم میں عزت پائے گا۔سو یہ پیش گوئی بھی پوری ہوئی کیونکہ مسیح زمین کے پیٹ میں سے نکل کر اپنی ان قوموں کی طرف گیا جو کشمیر اور تبت وغیرہ مشرقی ممالک میں سکونت رکھتی تھی باشه (۲۰) خود مسیح نے انجیل میں اپنے اس واقعہ کی مثال حضرت یونس کے واقعہ سے منطبق کی ہے اور یہ کہا ہے کہ میرا قبر میں داخل ہونا اور قبر سے نکلنا یونس نبی کی مچھلی کے نشان سے مشابہ ہے اور ظاہر ہے کہ یونس مچھلی کے پیٹ میں نہ مردہ داخل ہوا تھا اور نہ مردہ نکلا تھا بلکہ زندہ داخل ہوا اور زندہ ہی نکلا۔پھر اگر حضرت مسیح قبر میں مُردہ داخل ہوا تھا تو اس کے ا کشف الغطاء حاشیہ کا ۳۵ جلد ۱۴ سے :- (غالیا اصل لفظ زمین ہوگا۔راشد 14 به - ) مسیح ہندوستان میں ملا۔جلدها : مسیح ہندوستان میں ملتا جلد ۵ :