کسر صلیب

by Other Authors

Page 321 of 443

کسر صلیب — Page 321

۳۲۱ " دوسرا شق یہ ہے کہ اگر گناہ رک نہیں سکتے تو کیا اس لعنتی قربانی سے ہمیشہ گناہ بخشے جاتے ہیں۔گویا یہ ایک ایسا نسخہ ہے کہ ایک طرف ایک بدمعاش ناحق خون کر کے یا چوری کر کے یا جھوٹی گواہی سے کسی کے مال یا جان یا آبرو کو نقصان پہنچا کہ اور یا کسی کے مال کو غین کے طور پر دبا کر اور پھر اس لعنتی قربانی پر ایمان لاکرہ خدا کے بندوں کے حقوق کو ہضم کر سکتا ہے اور ایسا ہی زنا کاری کی ناپاک حالت میں ہمیشہ رہ کر صرف لعنتی قربانی کا اقرار کر کے خدا تعالیٰ کے قہری مواخذہ سے پہنچ سکتا ہے بس صاف ظاہر ہے کہ ایسا ہر گنہ نہیں۔۔تینتیسویں دلیل کفارہ کے خلاف سید نا حضرت مسیح موعود علیہ اسلام نے ایک نہایت زیر دست دلیل یہ پیش بیه فرمائی ہے کہ کفارہ کے نتیجہ میں اس بات کا کوئی امکان بھی باقی نہیں رہتا کہ کوئی ایسا نیک اعمال بجالائے کیونکہ کفارہ کی تعلیم کے مطابق نیک اعمال انسان کو نجات نہیں دیتے بلکہ کفارہ پر ایمان اس کو نجات دیتا ہے پس ان کے نزدیک اس کفارہ کے نتیجہ میں نیک اعمال کی ضرورت باطل ہو جاتی ہے۔اور اس طرح انسان شکست نیز مایوس ہو جاتا ہے۔دوسری طرف یہ خیال کہ یسوع مسیح ہمار سے سب گناہوں کا کفارہ ہو گئے ہیں اب ہم سے کوئی گرفت نہ ہوگی مسیحیوں کو گنا ہوں پر دلیر اور بے باک کرتا ہے اور ان کو جرات دلاتا ہے کہ وہ جو چاہیں کریں۔پس آپ نے کفارہ کے رد میں یہ دلیل پیش فرمائی ہے کہ اسکی ذریعہ گناہ معاف ہونے یا نجاست طنے کا کیا سوال، اس سے تو مزید گناہ کی جرأت اور تحریک پیدا ہوتی ہے اور عاقبت کا ڈر انسان کے دل سے نکل جاتا ہے۔پس کفارہ کا اصول گناہ کو دور نہیں کرتا بلکہ اور گناہ پیدا کرتا ہے لہذا باطل ہے۔آپ فرماتے ہیں۔ا، عیسائیوں نے گناہ کے دُور کرنے کا جو علاج تجویز کیا ہے وہ ایسا علاج ہے جو بجائے خود گناہ کو پیدا کرتا ہے اور اس کو گناہ سے نجات پانے کے ساتھ کوئی تعلق ہی نہیں ہے انہوں نے گناہ کے دور کرنے کا علاج گناہ تجویزہ کیا ہے جو کسی حالت اور صورت میں مناسب نہیں " سے اگر کوئی یہ کہے کہ کفارہ پر ایمان لانے سے انسان گناہ کی نہ نارگی سے نجات پاسکتا ہے اور گناہ کی قوت اس میں نہیں رہتی تو یہ ایک ایسی حالت ہے جس کا کوئی ثبوت نہیں ہے اسلئے کہ یہ رہتی اصول ہی اپنی جڑھ میں گناہ رکھتا ہے ، گناہ سے بچنے کی قوت پیدا ہوتی ہے۔مواخذہ الہی کے (+) - سراجدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب ملا جلد ۱۲ : ه:- لیکچر لدھیانہ صدا - جلد ۲۰ :