کسر صلیب — Page 320
۳۲۰ کا مادہ تھا مگر صدیہ کے بعد تو جیسے ایک بند ٹوٹ، کہ ہر ایک طرف دریا کا پانی پھیل جاتا ہے یہی عیسائیوں کے نفسانی جو شوں کا حال ہوا " لے ج سراسر کفارہ سے پہلے جیسے حواریوں کی صاف حالت تھی اور وہ بنیا اور دنیا کے درہم و دینار سے کچھ غرض نہ رکھتے تھے اور دنیا کے گندوں میں پھنسے ہوئے نہ تھے اور ان کی کوشش دنیا کے کمانے کے لئے نہ تھی اس قسم کے دل بعد کے لوگوں کے کفارہ کے بعد کہاں ر ہے۔خاص کہ اس زمانہ میں جسقدر کفارہ اور خون سیح پر زور دیا جاتا ہے اسی قدر عیسائیوں میں دنیا کی گر فتاری بڑھتی جاتی ہے۔اور اکثر ان کے ایک مخمور کی طرح - دن رات دنیا کے شغل میں لگے رہتے ہیں اور اس جگہ دوسر سے گناہوں کا ذکر کرنا جو یورپ میں پھیل رہے ہیں خاص کر شراب خوری اور بدکاری اس ذکر کی کچھ حاجت نہیں " ته و سمین) " جس غرض کے لئے خود کشی اختیار کی گئی وہ غرض بھی تو پوری نہ ہوئی۔غرض تو یہ تھی کہ یسوع کو ماننے والے گناہ اور دنیا پرستی اور دنیا کے لالچوں سے بانہ آجائیں مگر نتیجہ برعکس ہوا۔اس خود کشی سے پہلے تو کسی قدر یسوع کے ماننے والے رو بخدا بھی تھے مگر بعد اسکی جیسے جیسے خود کشی اور کفارہ کے عقیدہ پر زور دیا گیا اسی قدر دنیا پرستی اور دنیا کے لالچ اور دنیا کی خواہش اور شراب خوری اور قمار بازی اور بد نظری اور ناجائز تعلقات عیسائی قوم میں بڑھ گئے۔جیسے ایک خونخوار اور تیزیر و دریا جو ایک بندر لگایا گیا تھا وہ بند یکدفعہ ٹوٹ جائے اور ارد گرد کے تمام دیہات اور زمین کو تباہ کر د سے ا سکے اس موازنہ سے ثابت ہوتا ہے کہ کفارہ کے نتیجہ میں گناہوں کی اور زیادہ کثرت ہو گئی ہے اور جو تھوڑی بہت نیکی پہلے موجود بھی تھی کفارہ کے نتیجہ میں آنے والا گناہوں کا سیلاب اس کو بھی بہا کر لے ✔ کیا گناہوں کی اس کثرت کو دیکھ کر پھر بھی کوئی عیسائی یہ دعوی کر سکتا ہے کہ کفارہ سے گناہ ختم ہو جاتے ہیں ؟ ہر گنہ کوئی انصاف پسند عیسائی ایسا نہیں کر سکتا کفارہ کا جوانہ ثابت کرنے کے لئے عیسائی حضرات ایک اور تاویل کیا کرتے ہیں کہ کفارہ سے گناہ اور ڑکتے تو نہیں مگر معاف ضرور ہو جاتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ سلام نے اسکا بھی ٹھوس جواب تحریر فرمایا ہے۔آپ نے فرمایا : - - مه سے چشم مسیحی ملت ۱۷ جلد ۲۰ شده: لیکچر سیالکوٹ مٹ جلد ۲۰ که در حقیقة الوحی من ۲۲ جلد ۲۲ به : 14