کسر صلیب — Page 311
احمد 2 پہلوؤں سے جائزہ لے کہ غلط قرار دیا ہے۔کفارہ اور گناہوں کی معافی کے سلسلہ میں حضور نے جو دلائل بیان فرمائے ہیں وہ اس جگہ بیان ہوں گے۔اس ضمن میں حضرت مسیح پاک علیہ السلام نے سپنے پہلے یہ اصولی تجزیہ فرمایا ہے کہ کیا کفارہ اور گناہ کے درمیان کوئی تعلق بھی ہے یا نہیں۔اور کیا عقلی اور منطقی طور پر یہ ممکن ہے کہ کفارہ پر ایمان لانے والوں کے گناہ بخشے جائیں حضور نے سبسے پہلے گناہ کی حقیقت اور فلاسفی بیان کی ہے۔آپ فرماتے ہیں:۔اگر روحانی فلاسفی کی رو سے گنہ کی حقیقت پر غورہ کی جائے تو اس تحقیق کی رو سے بھی یہ عقیدہ فاسد ٹھہرتا ہے کیونکہ گناہ در حقیقت ایک ایسا زہر ہے جو اس وقت پیدا ہوتا ہے کہ جب انسان خدا کی اطاعت اور خدا کی پر جوش محبت اور محبانہ یاد الہی سے محروم اور بے نصیب ہو اور جیسا کہ ایک درخت جب زمین سے اکھڑ جائے اور پانی چوسنے کے قابل نہ رہے تو وہ دن بدن خشک ہونے لگتا ہے۔اور اس کی تمام سر سبزی بر باد برباد۔ہو جاتی ہے۔یہی حال اس انسان کا ہوتا ہے جس کا دل انخدا تعالیٰ کی محبت سے اکھڑا اک ہوا ہوتا ہے۔پس خشکی کی طرح گناہ اس پر غلیہ کرتا ہے ؟ اسے گویا گناہ ایک تاریخی خشکی اور لا تعلقی کا نام ہے جو اس وقت پیدا ہوتا ہے کہ جب انسان خدا سے اپنے تعلق اور رشتہ کو توڑ لیتا ہے۔ہر عقلمند انسان اس بات کو سمجھ سکتا ہے کہ جب تک کسی بات کے سبب کو دور نہ کیا جائے مستب کے زائل ہونے کا سوال نہیں ہوتا۔مثلاً تاریکی اس وقت تک دُور نہیں سکتی جب تک روشنی نہ آئے۔بھوک اس وقت تک دُور نہیں ہو سکتی جب تک کچھ کھایا نہ جائے۔اسی طرح پر گناہ بھی اس وقت تک دور نہیں ہو سکتا جب تک اسکی اصل سبب کو ختم نہ کیا جائے۔پس عقلی طور پر ثابت ہوتا ہے کہ گناہ کا علاج گناہ کے سبب کو دور کرتا ہے۔حضورہ فرماتے ہیں :۔اور گناہ کے دورہ کرنے کا علاج صرف خدا کی محبت اور عشق ہے کہ (۲) چونکہ گناہ کی خشکی لیے تعلیقی سے پیدا ہوتی ہے اس لئے اس خشکی کے دورہ کر نے کے لئے سیدھا علاج مستحکم تعلق ہے" سے (0) (۳) " اس خشکی کا علاج خدا کے قانون قدرت میں تین طور سے ہے۔(۱) ایک محبت (۲) استغفا ر جب کسی معنے ہیں دبانے اور ڈھانکنے کی خواہش کیونکہ جب تک مٹی میں درخت لے: سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب صب۔رخ جلد ۱۲ : ۲ : ايضا م : ١٥٣- الصامت : کا