کسر صلیب

by Other Authors

Page 312 of 443

کسر صلیب — Page 312

۳۱۲ کی جڑ بھی رہے تب تک وہ سر سبزی کا امید ہ الہ ہوتا ہے۔(۳) تیسرا علاج تو یہ ہے یعنی زندگی کا پانی کھینچنے کے لئے تذکل کے ساتھ خدا کی طرف پھرنا۔اور اس کی اپنے تئیں نزدیک کرنا۔بعضیت کے حجاب سے اعمال صالحہ کے ساتھ اپنے تئیں باہر نکالنا ہے (۴) دا گناہ کی فلاسفی یہی ہے کہ وہ خدا سے جدا ہو کر پیدا ہوتا ہے۔لہذا اس کا دُور کرنا خدا کے تعلق سے وابستہ ہے۔پس وہ کیسے نادان لوگ ہیں جو کسی کی خود کشی کو گناہ کا علاج کہتے ہیں۔تے گناہ کی فلاسفی اور علاج کو بیان کرنے کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ استدلال فرمایا ہے کہ گناہ کا جو خلاج عیسائی حضرات بیان کرتے ہیں اس کا گناہ کی حقیقی فلاسفی اور اسکی علاج کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔اس امر کو مثالوں سے واضح کرتے ہوئے حضور فرماتے ہیں :۔(۱) سے پہلے ہم یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ کفارہ میں اور گناہوں سے بچنے میں کوئی رشتہ بھی ہے یا نہیں ؟۔جب ہم غور کرتے ہیں تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ ان دونوں میں با ہم کوئی رشتہ اور تعلق نہیں۔مثلاً اگر ایک مریض کسی طبیب کے پاس آدے تو طبیب اس کا ط علاج کرنے کے بجائے اسے یہ کہد سے تو میری کتاب کا جز لکھد سے تیرا علاج یہی ہے تو کون عقلمند اس علاج کو قبول کرے گا۔پس مسیح کے خون اور گناہ کے علاج میں اگر یہی رشتہ نہیں ہے تو اور کونسا رشتہ ہے۔یا یوں کہو کہ ایک شخص کے سر میں درد ہوتا ہے۔اور دوسرا آدمی اس پر رحم کھا کہ اپنے سر میں پتھر ماہ سے اور اس کے دردسر کا اُسے علاج تجویز کر ہے۔یہ کیسی ہنسی کی بات ہے۔پس ہمیں کوئی بتادے کہ عیسائیوں نے ہمارے سامنے پیش کیا کیا ہے جو کچھ وہ پیش کرتے ہیں۔وہ تو ایک قابل شرم بناوٹ ہے۔گناہوں کا علاج کیا ؟ " سے " وہ اس بات کو مانتے ہیں کہ سنجات کا اصل ذریعہ گناہوں سے پاک ہوتا ہے اور پھر با وجود تسلیم اس بات کے گناہوں سے پاک ہونے کا حقیقی طریقہ بیان نہیں کرتے بلکہ ایک قابل شرم بناوٹ کو پیش کرتے ہیں حبس کو گناہوں سے پاک ہونے کے ساتھ کوئی حقیقی رشتہ نہیں ہے (۳) کفارہ کی اصل غرض تو یہ بتائی جاتی ہے کہ نجات حاصل ہو۔اور نجات دوسرے الفاظ میں (۲) ہے: سراجدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب ملت ۳ جلد ۱۲ شه: - سراجدین عیسائی کے چار سوالوں اجواب سرخ سبلد :- :- ملفوظات جلد سوم ص : --: كتاب البرته من رخ جلد ۱۳+