کسر صلیب

by Other Authors

Page 310 of 443

کسر صلیب — Page 310

۳۱۰ تشریح سے تو گویا کفارہ کا سارا اصول ہی باطل ہو جاتا ہے۔کفارہ پر تضاد کا یہ اعتراض ایسا وزنی ہے کہ اسکی مقابل پیر عیسائیوں کی حالت نہ جائے رفتن نہ کہ پائے ماندن والی ہے۔مسیح کو خدا کہیں تو مرنے سے اس کی خدائی باطل ہوتی ہے میسیج کو انسان کہیں تو کفارہ کا اصول ٹوٹتا ہے۔فراہ کی کوئی راہ نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مندرجہ ذیل حوالہ جات میں یہ دلیل مذکور ہے۔حضور فرماتے ہیں :- را عیسویت کے ابطال کے واسطے تو ایک دانا آدمی کے لئے یہی کام ہے کہ ان کے اس عقیدہ پر نظر کہ سے کہ خدا مر گیا ہے۔بھصل کوئی سوچے کہ خدا بھی مرا کہتا ہے۔اگر یہ کہیں کہ خدا کی روح نہیں بلکہ جسم مرا تھا تو ان کا کفارہ باطل ہو جاتا ہے یا لے پھر خدا ہونے کے برخلاف وہ مرتا ہے۔کیا خدا بھی مراکہ تا ہے ؟ اور اگر محض انسان مرا ہے تو پھر کیوں یہ دعویٰ ہے کہ ابن اللہ نے انسانوں کے لئے جان دی کیا ہے (۳) عیسائی کفارہ پر اس قدر زور دیتے ہیں حالانکہ یہ بالکل لغو بات ہے ان کے اعتقاد کے موافق میسج کی انسانیت قربان ہو گئی مگر صفت خدائی نہ ندہ رہی۔اب اس پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ وہ جو دنیا کے لئے فدا ہوا وہ تو ایک انسان تھا۔خدا نہ تھا حالانکہ کفارہ کے لئے بموجب انہی کے اعتقاد کے خدا کو قربان ہونا ضروری تھا۔مگر ایسا نہیں ہوا بلکہ ایک انسانی جسم فدا ہوا اور خدا نہ ندہ رہا اور اگر خدا خدا ہوا تو اس پر موت آئی " سے تیسوتن بيك سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے علم کلام کا ایک نمایاں وصف ہم نے یہ دیکھا ہے کہ آپ ہمیشہ مخالفین کے عقائد کا رد فرماتے ہوئے اُن کے عقائد کی بنیاد پر تبر رکھتے ہیں۔کیونکہ اگر کسی عقیدہ کی بنیاد یا اصل ہی باطل ہو جائے تو اس پر کوئی عمارت نیم استوار ہو سکتی ہے اور نہ قائم رہ سکتی ہے۔یہ باطل شکن خو بہ آپ نے کفارہ کی تردید میں بھی استعمال فرمایا ہے۔عیسائی حضرات کفارہ کی غرض و نمائت یہ بیان کرتے ہیں کہ اس سے انسانوں کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔اور ان کو نجات مل جاتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے عیسائیوں کے اس دعوی کا مختلف۔ه: لملفوظات جلد پنجم ص۲۹۲ سه ه : ملفوظات جلد دہم مل : 454 : چشمه سیحی صدا - در خ جلد ۲۰ :