کسر صلیب — Page 303
۳۰۳ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس بات کی پرزور تردید فرمائی ہے کہ موت گناہ کا پھل ہے۔اگر یہ بات ثابت ہو جائے کہ آدم جنسی سب سے پہلے گناہ گیا اسے پہلے بھی موت موجود تھی تو اس سے یہ اصول ٹوٹ جائے گا کہ گناہ سے موت پیدا ہوئی اور لازمی طور پر اس سے موروئی گناہ کا مسئلہ بھی باطل ہو جائیگا۔پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس بنیاد کو توڑ دیا ہے کہ آدم سے پہلے موت اور تھی بلکہ اس کے بعد ہوئی جس کو عیسائی گناہ کا پھیل قرار دیتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :- عیسائی کہتے ہیں کہ انسان اور تمام حیوانات کی موت آدم کے گناہ کا پھل ہے کہ حالانکہ یہ خیال دو طور سے صحیح نہیں ہے۔اول یہ کہ کوئی محقق اس بات سے انکار نہیں کر سکتا کہ آدم کے وجود سے پہلے بھی ایک مخلوقات دنیا میں رہ چکی ہے اور وہ مرتے بھی تھے اور ائس وقت نہ آدم موجود تھا اور نہ آدم کا گناہ۔پس یہ صورت کیونکر پیدا ہوگئی۔دوسرے یہ کہ اس میں شک نہیں کہ آدم بہشت میں بغیر ایک منع کئے ہوئے پھل کے اور سب چیزیں کھاتا تھا۔پس کچھ شک نہیں ہو سکتا کہ وہ گوشت بھی کھاتا ہوگا۔اس صورت میں بھی آدم کے گناہ سے پہلے حیوانات کی موت ثابت ہوتی ہے اور اگر اس سے بھی در گذر کریں تو کیا ہم دوسرے امر سے بھی انکار کر سکتے ہیں کہ آدم ہشت میں اور پانی پیتا تھا کیونکہ کھانا اور پینا ہمیشہ سے ایک دوسرے سے لازم پڑے ہوئے ہیں اور طبی تحقیقات اور ثابت ہے کہ ہر ایک قطرہ میں کئی ہزار کیڑے ہوتے ہیں پس کچھ شک نہیں کہ آدم کے گناہ سے پہلے کروڑہا کیٹر سے مرتے تھے پس اسی سے بہر حال ماننا پڑتا ہے کہ موت گناہ کا پھل نہیں اور یہ امر عیسائیوں کے اصول کو باطل کرتا ہے اے ظاہر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیش کردہ شالوں سے آدم سے پہلے موت کا وجد ثابت ہو جاتا ہے بس موروئی گناہ اور سب بنی آدم کا گناہگار ہوتا باطل ہوا۔اور اس صورت میں کفارہ کی کچھ ضرورت رہتی ہے اور نہ بنیاد قائم رہتی ہے۔پچیسویں دلیل۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کفارہ کی تردید میں ایک دلیل یہ بیان فرمائی ہے کہ جیب بر سے کاموں سے انسان سزا اور جہنم کا مستحق ٹھہرتا ہے تو عقلی طور پر یہ استدلال کیا جاسکتا ہے کہ نیکیاں کرنے والا جنت کا مستحق ہوگا۔پس اس استدلال کی موجودگی میں نہ کفارہ کی ضرورت رہتی ہے اور نہ یہ طریق نجات کا درست ثابت ہوتا ہے۔: كتاب البرية ص - ر- خ جلد ١٣ :