کسر صلیب

by Other Authors

Page 304 of 443

کسر صلیب — Page 304

۳۰۴ جسمانی اور روحانی نظام میں جزا و سزا کی مشابہت کا ذکر کرتے ہوئے حضور فرماتے ہیں : باد کاروں کے لئے عالم آخرت کی سزا ضروری ہے کیو نکہ جبکہ ہم دنیا می جسمانی پاکیزگی کے قواعد کو ترک کر کے فی الفور کسی بلا میں گرفتار ہو جاتے ہیں۔اسلئے یہ امر بھی یقینی ہے کہ اگر ہم روحانی پاکیزگی کے اصول کو ترک کریں گے تو اسی طرح موت کے بعد بھی کوئی عذاب مولم ضرور ہم پر وارد ہوگا۔جو و باء کی طرح ہمارے ہی اعمال کا نتیجہ ہو گا یا لے اس پر حاشیہ میں فرمایا : سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ کفارہ کچھ چیز نہیں بلہ جیسا کہ ہم اپنے جسمانی بد طریقوں سے وباء کو اپنے پر لے آتے ہیں اور پھر حفظ صحت کے قواعد کی پابندی سے اس سے نجات پاتے ہیں۔یہی قانون قدرت ہمارے روحانی عذاب اور نجات سے وابستہ ہے " ہے گویا بُرے اعمال سے انسان دوزخ اور اچھے اعمال سے جنت کا مستحق بن جاتا ہے۔پھر حضور نے اس عقلی استدلال کو ایک اور رنگ میں بھی بیان فرمایا ہے۔آپ فرماتے ہیں :- ایک اور امر منصفوں کے لئے قابل غور ہے اور وہ یہ کہ عقلی تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ نیک کام بلاشبہ اپنے اندر ایک ایسی تاثیر رکھتے ہیں جو نیکو کار کہ وہ تاثیر نجات کا پھل خشتی ہے۔کیونکہ عیسائیوں کو بھی اس بات کا اقرار ہے کہ بدی اپنے اندر ایک ایسی تاثیر رکھتی ہے کہ اس کا مرتکب ہمیشہ کے جہنم میں جاتا ہے۔تو اس صورت میں قانون قدرت کے اس پہلو پر نظر ڈال کر یہ دوسرا پہر بھی ماننا پڑتا ہے کہ علی ہذا القیاس نیکی بھی اپنے اندر ایک تاثیر رکھتی ہے کہ اس کا بجالانے والا وارث نجات بن سکتا ہے ا س اس حوالہ میں حضور نے تحریر فرمایا ہے کہ عیسائی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ برائی بڑا نتیجہ پیدا کرتی ہے چنانچہ لکھا ہے : بد کار خدا کی بادشاہ کے وارث نہ ہوں گے نہ ورنہ زنا کار د شرابی - نظالم - نعیانش کا ہے پھر لکھا ہے :۔جو جان گناہ کرتی ہے وہی مرے گی ؟ شے اس سے ثابت ہوا کہ عیسائی برائی کے بڑے الہ کے ضرور قائل ہیں پس حضور علیہ السلام کا یہ استدلال عقلی له : ايام الصلح صار - خ جلد ۱۴: : كتاب البريه صدا رخ جلد ١٣ :- ایام الصلح حاشیه ها - ر- خ جلد ۱۴ کر نتھیوں : شے : حز قیل :