کسر صلیب — Page 302
ترجمہ : اور بیٹے سے یہ تعجب ہے کہ وہ خوب جانتا تھا کہ جنوں کا گروہ آدمیوں سے گناہ میں بڑھ گیا ہے اور وہ سیدھا راستہ اختیار نہیں کرتے بلکہ بے راہی کی تیزی میں حد سے زیادہ بڑھ گئے ہیں۔پھر انتہی ان کے بارے میں تغافل کیا۔اور ان کی ہمدردی کے لئے کچھ توجہنہ کی۔اور نہ چاہا کہ اسی کفارہ سے جن کا گروہ فائدہ اُٹھاد سے اور ان کو اس ابدی عذاب سے نجات ہو جو ان کے لئے تیار کیا گیا ہے۔سو جنوں کو اس کے مصلوب ہونے نے کچھ بھی فائدہ نہ پہنچایا۔حالانکہ وہ اس پر ایمان لاتے تھے۔جیسا کہ اس پر انجیل گواہی دے رہی ہے پس گویا بیٹے نے اپنے اس کفارہ کی مہمانی کی طرف ان گناہگاروں کو نہیں بلایا۔اور انجیلوں کی طرح تاخیر کی اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ باپ کا کوئی اور بیٹا ہو جو جنوں کے لئے پھانسی دیا ہو۔بلکہ یہ تو واجبات میں سے ہے کہ ایسا ہی ہو۔کیونکہ جب ایک بیٹا نوع انسان کے لئے جو تھوڑے ہیں پھانسی دیا گیا۔پس کس قدر لائق ہے کہ ایک دوسرا بیٹا جنوں کے لئے پھانسی ملے۔جو گناہ اور تعداد کے لحاظ سے بنی آدم سے بڑھے ہوئے ہیں۔ورنہ ترجیح بلا منرجع لازم آئے گی۔اور باپ اور بیٹوں کا انخل ثابت ہوگا اور کچھ شک نہیں کہ ایک قوم کی مغفرت کا فکر۔دوسری قوم سے تغافل صریح ظلم اور بے جا کار روائی ہے بلکہ اس کی تو باپ کا جہل ثابت ہوتا ہے کیا اس کو معلوم نہیں تھا کہ گنا ہوگا یہ لوگ دو قومیں ہیں صرف ایک قوم تو نہیں۔سو دو قوموں کے لئے صرف ایک بیٹے کا پھانسی دینا کافی نہیں۔بلکہ کافی طور پر یہ مقصد کب پورسا کب لإنسا ہو سکتا ہے کہ جب دو بیٹوں کو پھانسی دیا جاتا۔یہ بات کہنے کے لائق نہیں کہ بیٹا تو صرف ایک ہی تھا وہ اس پر راضی تھا کہ وہ فقط نوع انسان کے لئے پھانسی دیا جاو سے کوئی دوسرا بیٹا تو نہیں تھا کہ تا جنوں کے لئے پھانسی دیا جاتا کیونکہ ہم کہتے ہیں کہ باپ اسی بات پر قادر تھا کہ اس بات کے لئے کوئی اور بیٹا جنے جیسا کہ انی پہلا بیٹا جنا بس کچھ شک نہیں کہ اس نے جنوبی کے گردہ کو عمدا عذاب ابدی میں چھوڑا اور محض بخل کی راہ سے ان کے لئے کوئی پھانسی پر نہ لٹکایا ہے چوبیسویں دلیل نجیلی تعلیم کی رو سے موت گناہ کی سزا ہے۔سیکھا ہے :۔پس جس طرح ایک آدمی کے سبب سے گناہ دنیا میں آیا اور گناہ کے سب سے موت آئی اور یوں موت سب آدمیوں میں پھیل گئی اس لئے کہ سب نے گناہ کیا یا لے عیسائی اس اصول کو اس غرض کے لئے پیش کرتے ہیں کہ تا وہ یہ ثابت کر سکیں کہ تمام بنی آدم موروثی طور پر گناہگار ہیں اور اس طرح کفارہ کی ضرورت ثابت ہو سکے۔ے۔- رومیوں :