کسر صلیب — Page 300
} وقت پر پھانسی ملا ہوگا۔پس ایسے خدا سے کوئی بہبودی کی امید رکھنا لا حاصل ہے جب کسے خود اپنے ہی جوان بچے مرتے رہے لے نیز فرمایا : پھر وہ اس بات کے قائل نہیں ہیں کہ وہ ہمیشہ سے اور غیر متناہی زمانوں سے اپنے پیارے بیٹوں کو لوگوں کے لئے سولی پر چڑھاتا رہا بلکہ کہتے ہیں کہ یہ تدبیر بھی اس کو کچھ تھوڑے عرصہ سے ہی سو بھی ہے اور ابھی بڑھے باپ کو یہ خیال آیا ہے کہ بیٹے کو سولی دلا کر دوسروں کو عذاب سے بچادے کا ہے ھر آپ اسی سلسلہ میں فرماتے ہیں :- " اگر یہ اعتقاد کیا جا و سے کہ خدا خود ہی آکر دنیا کو نجات دیا کر تا ہے یا اسکی بیٹے ہی آتے ہیں تو پھر اور لازم آئے گا اور ہر زمانہ میں نیا خدایا اسکے بیٹوں کا آنا ماننا پڑے گا جو صریح خلاف بات ہے۔سو تئیسویں دلیل وليك کفارہ کی تردید میں ایک اور دلیل حضور علیہ السلام نے یہ پیش فرمائی ہے کہ عیسائی تسلیم کرتے ہیں کہ ان کا خدا کسی کو گناہ میں ہلاک کرنا نہیں چاہتا۔اسی وجہ سے اس نے کفارہ کے طریق کو پیش کیا ہے لیکن اس صورت میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ بنی آدم کے لئے تو ان کے خیال میں حضرت مسیح کا بطور کفارہ قربان ہونا کافی ہو گیا لیکن جنوں اور شیاطین کی نجات کے لئے خدا نے کیا طریق اختیار کیا کیونکہ ان کی تعدا د بھی زیادہ ہے اور گناہ بھی زیادہ بڑے ہیں پس خدا کے لئے ضروری تھا کہ وہ ان جنوں اور شیاطین کے لئے بھی اپنے کسی ر بیٹے کو مصلوب کرتا اگر ایسا ہوا ہے تو اس کا ثبوت دینا عیسائیوں کے ذمہ ہے اور اگر ایسا کوئی انتظام خدا نے نہیں کیا اور واقعہ بھی یہی ہے کہ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ خدا کے اور بیٹے جنوں کی نجات کے لئے مصلوب ہوئے ہوں تو پھر کفارہ کا اصول ناکافی اور نا شکل ثابت ہوتا ہے اور خدا کے رحم اور عدل پر زد پڑتی ہے۔اس طرح یہ سارا اصول ہی باطل ٹھہرتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :- عیسائی یہ اقرار کرتے ہیں کہ ان کا خدا کسی کو گناہ میں ہلاک کرنا نہیں چاہتا۔پھر اس صورت میں ان پر یہ اعتراض ہے کہ اس خدا نے ان شیاطین کی پلید روحوں کی نجات کے لئے کیا اور 1 ه ده ست بچن جلد ابنه سه ست بچن صارخ جلد سے :- ملفوظات جلد سوم ص۱۳۲ : : : و