کسر صلیب — Page 283
۲۸۳ + مترادف ہے اور اگر ان کی طرف کوئی اور ایسی تعلیم منسوب کرے (جیسا کہ کفارہ کی صورت میں کی جاتی ہے ، تو اور ) وہ ہرگز قابل التفات نہیں کیونکہ یہ ان کے منصب سے بالا اور دائرہ کار سے خارج ہے۔پس ثابت ہوا کہ مسیح کا بنی اسرائیل کا رسول ہونا کفارہ کے عالمگیر ذریعہ نجات کے منافی ہے پس کفارہ کا اصول باطل ہے۔10 بند رھویں دلیل دیبا کفارہ کی تردید میں سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک دلیل یہ ہے کہ یہ شملہ عقل کے بالکل خلاف ہے۔عیسائی حضرات اس مسئلہ کو مختلف منطقیانہ بحثوں کے ذریعہ درست ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور کئی عقلی دلائل بھی پیش کرتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ عقل و دانش کے سراسر خلاف ہے۔ایک معمولی سمجھ کا انسان بھی اس بات کو جان سکتا ہے کہ اگر قصور ایک انسان کا ہے تو دو سر سے انسان کو صلیب چڑھانے اور بار نے سے اس قصور کا کیا علاج ہو سکتا ہے؟ اگر بیمار ایک شخص ہو اور دوائی دوسرا شخص پی سے تو کیا اسے بیمار کو کچھ فائدہ پہنچ سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔اوّل تو قربانی بر کا یہ طریق ہی خلاف عقل ہے اور اس پر بہت سے اعتراضات وارد ہوتے ہیں لیکن اگر بغیر کسی معقول دلیل کے وقتی طور پہ یہ فرض بھی کر لیا جائے کہ اس قربانی سے گناہ معاف ہو جاتے ہیں تو پھر عقلا اسی وجود کے گناہ معاف ہوں گے جو یہ قربانی دیتا ہے۔عقل اس خیال کو دُور سے ہی دھکے دیتی ہے کہ ایک انسان کے سرمی در دہو اور دوسرا اس کی بھلائی اور فائدہ کے خیال سے اپنے سر یہ پتھر مار سے اور سمجھے کہ اسی دوسرے کی سردرد کا علاج ہو جائے گا۔الغرض یہ عقیدہ عقل کے سراسر خلاف ہے لہذا باطل ہے یہ اور کوئی صاحب عقل و فراست ایک لمحہ کے لئے بھی اس کو صحیح عقیدہ نہیں سمجھ سکتا۔عقل کے اعتبار سے یہ اعتراض بھی وارد ہوتا ہے کہ اگر واقعی یسوع مسیح صلیب پر مرکز لعنتی ہو گیا تھا جیسا کہ عیسائی تسلیم کرتے ہیں۔تو کیا ایسا شخص جو خود لعنت کے نیچے ہے کسی اور کو لعنت سے بچا کہ نجات دے سکتا ہے۔جو خود مقروض ہو وہ کسی دوسرے کا قرض کیسے ادا کر سکتا ہے ؟ عقلاً وہی شخص فدیہ ہو سکتا ہے جو خود پاک ہو۔جب مسیح ان کے قول کے مطابق ملعون ہے تو دوسروں کا فدیہ کیسے ہو سکتا ہے ؟ العرض اس قسم کے متعدد اعتراضات ہیں جو انہ روئے عقل اس عقیدہ پر پڑتے ہیں۔پس یہ مسئلہ خلاف عقل ہونے کی وجہ سے باطل ہے۔اس دلیل کا استنباط حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جن عبارات سے ہوتا ہے وہ در ج ذیل درج